Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

چکن کھانے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی،نئی تحقیق نے چونکا دیا

اسلام آباد (اوصاف نیوز) تحقیق کے مطابق چکن زیادہ مقدار میں کھانے سے پیٹ کے امراض سمیت کئی خطرناک بیماریوں کا تعلق ہے۔

چکن کو عام طور پر سرخ گوشت سے زیادہ صحت بخش سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جو لوگ وزن کم کرنے، فٹنس اور ورزش میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ اسے اپنی روزمرہ کی خوراک میں ایک خاص جگہ دیتے ہیں، تاہم حالیہ تحقیق نے اس عام خیال کو چیلنج کردیا ہے۔

معروف سائنسی جریدے نیوٹریئنٹس میں شائع ہونے والی اطالوی سائنسدانوں کی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جو لوگ ہفتے میں 300 گرام سے زیادہ چکن کھاتے ہیں ان میں معدے اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں مجموعی طور پر موت کا خطرہ 27 فیصد زیادہ پایا گیا ہے جب کہ مردوں میں یہ خطرہ 2.6 گنا تک بڑھ سکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ صرف پیٹ کے کینسر تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جگر، لبلبہ اور آنتوں کے دیگر کینسر سے بھی ہے۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ چکن خود کینسر کی براہ راست وجہ ثابت نہیں ہوا بلکہ اصل مسئلہ اس کے زیادہ استعمال اور کھانا پکانے کے غلط طریقوں سے متعلق ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چکن کو زیادہ درجہ حرارت پر فرائی یا گرل کرنے سے ایسے نقصان دہ کیمیائی مرکبات پیدا ہوتے ہیں جو انسانی ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پراسیس شدہ چکن، غیر متوازن خوراک اور پولٹری فارمنگ میں استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹکس بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔

ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ چکن کو مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اعتدال کو اپنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہفتے میں 300 گرام تک چکن کا گوشت نسبتاً محفوظ ہے جب کہ صحت مند زندگی کے لیے خوراک میں مچھلی، انڈے، دالیں، سبزیوں اور فائبر کو شامل کرنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں‌:رشوت کیوں دوں؟ کوئٹہ میں ڈرائیور نے احتجاجاً اپنا رکشہ نذر آتش کردیا، ٹریفک اہلکار معطل

یہ بھی پڑھیں