اسلام آباد (نامہ نگار)وفاقی حکومت نے سول آرمڈ فورسز میں روٹیشن پالیسی نافذ کرنے کا تاریخی فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے وزارتِ داخلہ کی سمری کی منظوری دیتے ہوئے سول آرمڈ فورسز کے مابین روٹیشن کے اصولی فریم ورک کی توثیق کر دی ہے،
جس کا مقصد آپریشنل صلاحیتوں میں بہتری اور پیشہ ورانہ تجربے کا تبادلہ ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں پاکستان رینجرز اور فرنٹیئر کور کے درمیان روٹیشن کی جائے گی۔
اس پالیسی کے تحت سندھ اور پنجاب رینجرز کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تعینات کیا جائے گا، جبکہ فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے اہلکاروں کی تعیناتی سندھ اور پنجاب رینجرز میں عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق سول آرمڈ فورسز میں روٹیشن کا عمل مکمل طور پر آپریشنل ضروریات اور سیکیورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، تاکہ مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کو متنوع چیلنجز کا عملی تجربہ حاصل ہو سکے۔
واضح رہے کہ سول آرمڈ فورسز میں پنجاب رینجرز اور سندھ رینجرز شامل ہیں، جبکہ فرنٹیئر کور نارتھ اور فرنٹیئر کور ساوتھ خیبر پختونخوا بھی سول آرمڈ فورسز کا حصہ ہیں۔
اسی طرح فرنٹیئر کور نارتھ اور فرنٹیئر کور ساوتھ بلوچستان، پاکستان کوسٹ گارڈز اور گلگت بلتستان اسکاوٹس بھی سول آرمڈ فورسز میں شامل ہیں۔
زرائع مطابق سول آرمڈ فورسز میں روٹیشن پالیسی سے نہ صرف ادارہ جاتی ہم آہنگی بڑھے گی بلکہ داخلی سلامتی سے متعلق آپریشنز میں کارکردگی اور پیشہ ورانہ مہارت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
مزید پڑھیں:آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، قومی سکواڈ سری لنکا روانہ


