Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

ماہ رمضان کی عام عادتیں جو آپ کو پیٹ پھولنے اور گیس کا شکار بناتی ہیں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ماہ رمضان میں لوگ سارا دن کچھ نہیں کھاتے اور افطار کے وقت قدرتی طور پر بھوک لگتی ہے لیکن یہ بھوک اکثر ضرورت سے زیادہ کھانے پر مجبور کردیتی ہے اور زیادہ کھانا صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔

افطار کے دوران لوگ شدید بھوک کی وجہ سے بہت جلدی کھاتے ہیں یعنی کھانے کو بغیر چبائے بغیر نگل لیتے ہیں جس سے پیٹ پھولنا، تیزابیت، گیس کی زیادتی اور سینے میں جلن جیسے عام مسائل جنم لیتے ہیں۔ اسی طرح اکثر لوگ صحت کے لیے فائدہ مند غذاؤں کا انتخاب نہیں کرتے جس سے صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ تو جانئے وہ وجوہات جن کی وجہ سے آپ کو رمضان میں پیٹ پھولنا، گیس کی زیادتی یا سینے میں جلن جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صحیح غذا سے روزہ نہ توڑنا
اگر آپ زیادہ تیل والی غذاؤں سے روزہ توڑتے ہیں تو یہ عادت سینے میں جلن اور پیٹ پھولنے جیسے مسائل کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق افطار کے وقت پہلے کھجور یا پانی پینا چاہیے۔ کھجور کا استعمال خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں مدد کرتا ہے جبکہ جسم فوری طور پر نظام ہاضمہ کو متاثر کیے بغیر جسمانی توانائی بڑھا سکتا ہے۔

اسی طرح دن بھر پانی سے دور رہنے کے بعد پانی پینا جسم میں پانی کی سطح کو معمول پر لاتا ہے اور ہمارے معدے کو کھانا ہضم کرنے کے لیے تیار رہنے میں مدد دیتا ہے۔

جلدی کھانا
اگر آپ افطاری کے دوران بہت جلدی کھاتے ہیں تو آپ ضرورت سے زیادہ کھانا کھاتے ہیں جس سے اپھارہ اور گیس کی زیادتی جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں کھانا چبا کر کھانا بہتر ہے کیونکہ ہمارے دماغ کو پیٹ بھرنے کے احساس کو پہچاننے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ کھانا اچھی طرح چبانے سے دماغ کو یہ وقت ملتا ہے جب کہ ہمارا جسم کھانے میں موجود ضروری اجزاء کو زیادہ آسانی سے جذب کر لیتا ہے۔

تلی ہوئی اشیاء یا بھاری کھانوں کا استعمال
تلی ہوئی اشیا جیسے پکوڑے، سموسے وغیرہ افطار کے وقت بہت اچھے لگتے ہیں لیکن زیادہ مقدار میں کھانے سے تیزابیت، گیس اور اپھارہ جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ غذائیں کھانے سے نظام ہاضمہ پر بوجھ بڑھ جاتا ہے اور آپ تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔

مقدار پر توجہ نہ دینا
زیادہ کھانے سے بچنے کی کلید یہ ہے کہ کھانا محدود مقدار میں کھانے کی کوشش کریں۔ افطار کے دوران کم مقدار میں کھانا استعمال کرنا بہتر ہے کیونکہ طویل بھوک کے بعد ہم زیادہ کھانے کی طرف مائل ہوتے ہیں لیکن اعتدال میں رہنے سے نظام انہضام کے مسائل کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

میٹھے کھانوں کا زیادہ استعمال
افطار کے بعد بہت زیادہ چینی کھانے سے خون میں شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے اور اس سے جسمانی توانائی میں اچانک اضافہ ہوتا ہے جو پھر کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر آپ کو بھی بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو افطار کے دوران مٹھائیاں کھانے کے بجائے صحت بخش غذائیں جیسے پھل، کھجور یا دہی کا انتخاب کریں۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جرائد میں شائع ہونے والی معلومات پر مبنی ہے۔ قارئین اس سلسلے میں اپنے معالج سے بھی مشورہ کریں۔
مزید پڑھیں‌:نیٹ میٹرنگ سے متعلق وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ

یہ بھی پڑھیں