اسلام آباد(اوصاف نیوز) سپریم کورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا جبکہ وزیر اعظم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی اور حکمِ امتناع جاری کیا۔دوران سماعت جسٹس عائشہ ملک نے اپنے اختلافی نوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اس مقدمہ میں میرا اختلافی نوٹ ہے،۔
2 جج صاحبان نے حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔وکیل علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ٹانگ میں گولی لگی تھی، بانی پی ٹی آئی زخمی ہونے کے باعث کیس میں پیش نہ ہوسکے،ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی عدم پیروی پر حق دفاع کردیا اب مقدمہ میں شہادتیں ریکارڈ ہو رہی ہیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ کتنے ارب ہرجانے کا دعوی ہے ؟وکیل نے کہا کہ 10 ارب روپے کا دعویٰ کیا گیا۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کرنے سے پہلے دو تاریخوں پر بانی کا زخمی ہونا تسلیم کیا، زخمی ہونا تسلیم کرنے کے بعد حق دفاع کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟ ہم مقدمہ میں دوسرے فریق کو نوٹس کررہے ہیں۔
واضح رہے 2017 میں شہبازشریف نے بانی پی ٹی آئی کےخلاف 10 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائرکیا تھا۔بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاناما کیس پرخاموشی کےلیے انہیں شہبازشریف کی جانب سے10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی۔وزیراعظم شہبازشریف نے الزامات کو جھوٹا قراردیتے ہوئے ہتک عزت کا دعویٰ کیا۔
مزید پڑھیں:پاکستان کے مختلف شہروں میں سحری اور افطاری کے اوقات کار


