Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

جنوبی افریقا سے بدترین شکست کے بعد کیا بھارت سیمی فائنل کھیل سکتا ہے؟

(اوصاف نیوز)ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 سپر 8 مرحلے کے میچ میں جنوبی افریقا سے بدترین شکست کے بعد بھارت کی سیمی فائنل میں رسائی مشکل ہوگئی ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مرحلے میں بھارت کی سیمی فائنل تک رسائی کی امیدوں کو اُس وقت بڑا دھچکا لگا جب سوریا کمار یادیو کی قیادت میں ٹیم کو اتوار کے روز احمد آباد میں کھیلے گئے اپنے پہلے میچ میں جنوبی افریقا کے ہاتھوں 76 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

جنوبی افریقا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے۔

ڈیوڈ ملر نے 63 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی جبکہ ڈیوالڈ بریوس نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 45 رنز اسکور کیے۔ بھارتی باؤلرز میں جسپریت بمراہ سب سے نمایاں رہے جنہوں نے 3 وکٹیں لے کر 15 رنز دیے۔

ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم ابتدا ہی سے دباؤ کا شکار نظر آئی اور رن ریٹ کے تقاضوں کو پورا نہ کر سکی۔ پوری ٹیم 111 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ جنوبی افریقا کے مارکو یانسن نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

اس شکست کے بعد بھارت کو سیمی فائنل (فائنل فور) میں جگہ یقینی بنانے کے لیے اپنے باقی دونوں میچز ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف جیتنا ہوں گے۔ اگر بھارت صرف ایک میچ جیتتا ہے تو پھر اس کی کوالیفکیشن کا انحصار دیگر نتائج اور نیٹ رن ریٹ پر ہوگا۔

اگر بھارت اپنے دونوں میچز جیت لیتا ہے تو اس کے دو میچز سے 4 پوائنٹس ہوجائیں گے۔ عمومی طور پر یہ پوائنٹس سیمی فائنل تک رسائی کے لیے کافی ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ دو دیگر ٹیمیں بھی 4 پوائنٹس حاصل نہ کرلیں۔

یہ صورت اس وقت بن سکتی ہے جب جنوبی افریقا اپنے باقی میچز میں سے صرف ایک جیتے اور ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے درمیان میچ کی فاتح ٹیم جنوبی افریقہ کو بھی شکست دے دے۔ ایسی صورت میں بھارت کی کوالیفکیشن کا فیصلہ نیٹ رن ریٹ پر ہوگا۔

اگر بھارت صرف ایک میچ میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے یہ امید رکھنا ہوگی کہ جنوبی افریقا اپنے تمام میچز جیت لے۔ اس کے ساتھ ایک اور شرط یہ ہوگی کہ بھارت کی فتح ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے درمیان میچ جیتنے والی ٹیم کے خلاف ہو۔

اس صورت میں بھارت، زمبابوے اور ویسٹ انڈیز تینوں کے پاس 2،2 پوائنٹس ہوں گے اور ایک بار پھر فیصلہ مکمل طور پر نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر ہوگا۔

یوں بھارت کی سیمی فائنل تک رسائی اب نہ صرف اپنی کارکردگی بلکہ دیگر میچز کے نتائج اور نیٹ رن ریٹ سے بھی مشروط ہوچکی ہے۔
مزید پڑھیں:بھارت میں ایئرایمبولنس حادثے کا شکار، 7 افراد ہلاک

یہ بھی پڑھیں