Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ڈپریشن کے خطرناک جسمانی اثرات، آپ کو ضرور معلوم ہونے چاہئیں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ڈپریشن محض ایک ذہنی یا جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک پیچیدہ بیماری ہے جو انسانی جسم پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اگر اداسی، مایوسی یا تناؤ کی علامات دو ہفتوں سے زائد عرصے تک برقرار رہیں تو یہ سنجیدہ مسئلے کی نشاندہی ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ڈپریشن میں مبتلا افراد کی کھانے پینے کی عادات میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں وزن میں غیر معمولی اضافہ یا کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ وزن بڑھنے سے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ وزن میں کمی تھکاوٹ، دل کی کمزوری اور بانجھ پن جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن اکثر جسمانی تکالیف جیسے جوڑوں اور پٹھوں میں درد، سر درد اور سینے میں جکڑن سے بھی منسلک ہوتا ہے، جو مریض کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بیماری دل کی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے کیونکہ متاثرہ افراد میں صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کا رجحان کم ہو جاتا ہے، جس کے باعث غیر متوازن غذا اور جسمانی سرگرمی میں کمی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق کورونری دمنی کی بیماری میں مبتلا ہر پانچ میں سے ایک مریض ڈپریشن کا شکار ہو سکتا ہے۔ مزید برآں ڈپریشن اور جسمانی ورم (سوزش) کے درمیان تعلق بھی سامنے آیا ہے، جو مدافعتی نظام کو متاثر کر کے آنتوں کے امراض، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور جوڑوں کے مسائل کے امکانات بڑھا سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تعلق کی نوعیت پر مزید تحقیق جاری ہے۔

ڈپریشن تولیدی صحت اور ازدواجی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ پہلے سے موجود دائمی امراض میں مبتلا افراد میں یہ بیماری علامات کو مزید شدت دے سکتی ہے۔ ادویات کے باقاعدہ استعمال میں مشکلات بھی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

نیند کی کمی یا بے خوابی ڈپریشن کی ایک عام علامت ہے، جس کے باعث شدید تھکاوٹ اور جسمانی و ذہنی صحت میں مزید بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔ طویل عرصے تک نیند کی کمی کا تعلق ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور وزن میں اضافے جیسے امراض سے جوڑا جاتا ہے۔

اسی طرح ڈپریشن کے شکار افراد میں ہاضمہ کے مسائل، مثلاً متلی، قبض یا اسہال بھی دیکھنے میں آ سکتے ہیں، جو معیارِ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔

ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ڈپریشن کے علاج میں صرف ذہنی نہیں بلکہ جسمانی صحت کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ مریض کو مکمل اور مؤثر علاج فراہم کیا جا سکے اور ممکنہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھیں‌:چیٹ جی پی ٹی کا اصل کمال کیا ہے؟ وہ فیچرز جو سب کو معلوم ہونے چاہئیں

یہ بھی پڑھیں