Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

32 کنال زمین کا ڈرامہ ختم، سپریم کورٹ کا بڑا ایکشن ،عدالت عظمیٰ کا چونکا دینے والا فیصلہ

اسلام آباد(اوصاف نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1992 کے مبینہ زبانی معاہدے کی بنیاد پر زمین کی منتقلی کے احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اہم نظیر قائم کر دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ محض قبضہ یا طویل عرصے تک زمین رکھنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔

یہ تحریری فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں عدالت نے قرار دیا کہ زبانی معاہدوں کے مقدمات میں اب سخت معیارِ ثبوت لاگو ہوگا۔

عدالت نے درخواست گزار غلام علی کی اپیل منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے۔

زبانی معاہدہ ثابت نہ ہوسکا

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 1992 کا مبینہ زبانی معاہدہ قانون کے مطابق ثابت نہیں کیا گیا۔ عدالت کے مطابق کسی بھی زبانی معاہدے کو ثابت کرنے کے لیے:

  • معاہدے کی تاریخ

  • وقت

  • مقام

  • شرائط

  • اور گواہوں کی مکمل تفصیلات

لازمی طور پر پیش کرنا ہوں گی۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ عدالتی تحریری موقف سے ہٹ کر دی گئی شہادت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

کیس کا پس منظر

مدعیان کے مطابق 1992 میں ان کے والد کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی بریت کے بعد صلح ہوئی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جرگے میں فیصلہ ہوا جس کے تحت غلام علی 32 کنال زمین مدعیان کو دیں گے۔

مدعیان کا یہ بھی مؤقف تھا کہ صلح کے بعد زمین کا قبضہ انہیں دے دیا گیا تھا، تاہم 2016 میں غلام علی نے انتقال رجسٹرڈ کرانے سے انکار کر دیا۔

عدالتی کارروائی

ابتدائی طور پر ٹرائل کورٹ نے مدعیان کا دعویٰ مسترد کر دیا تھا، تاہم اپیل میں مخصوص کارکردگی کا دعویٰ منظور کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور لاہور ہائیکورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

تاہم سپریم کورٹ نے تمام سابقہ عدالتی فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ زبانی معاہدوں کی بنیاد پر ملکیت کے دعوے کے لیے مضبوط اور مکمل ثبوت ناگزیر ہیں۔

یہ فیصلہ مستقبل میں زبانی معاہدوں سے متعلق زمین کے تنازعات کے مقدمات پر اہم اثرات مرتب کرے گا۔

مزید پڑھیں:پنجاب ای ٹیکسی اسکیم کا آغاز، ڈرائیورز کو الیکٹرک گاڑیاں اور بڑی سہولیات فراہم

یہ بھی پڑھیں