شکاگو/ویانا(اوصاف نیوز) کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے فاصلے اختیار کریں، اور ان کے کردار کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دیا۔
صدر پیٹرو نے شکاگو میں امریکی شہری حقوق کی تحریک کی رہنما ریورنڈ جیسی جیکسن کے جنازے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کے اقدامات بچوں اور نوجوانوں کے خلاف میزائل حملوں کے مترادف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “نیتن یاہو سے علیحدگی ضروری ہے۔ میزائلوں سے الگ ہونا اور امن کے لیے بات کرنا انتہائی اہم ہے۔”
پیٹرو نے موجودہ عالمی کشیدگی کا موازنہ 1930 کی دہائی کے یورپ سے کیا، جب ہٹلر اقتدار میں آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دور بربریت کے آغاز کا انتباہ ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کسی بھی وقت انسانیت پر خطرہ ہو سکتا ہے۔”
صدر پیٹرو کے مطابق، نیتن یاہو کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں اور عالمی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ سے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے الگ ہو جائیں تاکہ انسانی جانوں اور بین الاقوامی تعلقات کو نقصان نہ پہنچے۔
صدر پیٹرو شکاگو میں مقامی حکام اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، جن میں میئر برینڈن جانسن اور الینوائے کے گورنر جے بی پرٹزکر شامل ہیں۔ اس کے بعد وہ 9 سے 13 مارچ تک ویانا جائیں گے تاکہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے نارکوٹک ڈرگز کے 69ویں اجلاس میں شرکت کریں۔
صدر پیٹرو کے بیانات نے عالمی سطح پر نیتن یاہو کے کردار پر تنقید کو مزید شدت دی ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حل کے لیے بین الاقوامی ثالثی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
مزید پڑھیں:جی ایچ کیو حملہ کیس: عمر ایوب، شبلی فراز، مراد سعید، ذلفی بخاری سمیت 47 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا
