اسلام آباد(اوصاف نیوز) آسٹریلیا میں ایرانی خواتین کی فٹبال ٹیم کو سیاسی پناہ دینے کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے، جہاں 60 ہزار سے زائد افراد نے ایک آن لائن درخواست پر دستخط کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی ہے کہ کھلاڑیوں کو ایران واپس نہ بھیجا جائے کیونکہ انہیں جیل یا حتیٰ کہ سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی ٹیم نے اےایف سی وومنز ایشیئن کپ کے اپنے پہلے میچ سے قبل قومی ترانہ نہ گا کر خاموش احتجاج کیا تھا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع ہوئی تھیں۔ آسٹریلیا کے شہر روبینا میں ساؤتھ کورین وومنز نیشنل فٹبال ٹیم کے خلاف میچ سے قبل ایرانی کھلاڑی خاموشی سے کھڑی رہیں جسے ایرانی حکومت کے خلاف علامتی احتجاج قرار دیا گیا۔
بعد ازاں آسٹریلیا وومنز نیشنل فٹبال ٹیم کے خلافگولڈ کوسٹ میں ہونے والے میچ سے قبل ایرانی کھلاڑیوں نے قومی ترانہ گایا، جس پر قیاس آرائیاں کی گئیں کہ انہیں ایران سے ایسا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اس میچ میں آسٹریلیا نے ایران کو 0-4 سے شکست دی۔
اس واقعے کے بعد ایرانی سرکاری ٹی وی کے میزبان محمد رضا شہبازی نے ٹیم کو “جنگی غدار” قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ جنگ کے حالات میں ملک کے خلاف قدم اٹھانے والوں کے ساتھ زیادہ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔
دوسری جانب جلاوطن ایرانی ولی عہد رضاپہلوی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی خواتین فٹبالرز شدید دباؤ میں ہیں اور اگر وہ وطن واپس گئیں تو انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے آسٹریلوی حکومت سے اپیل کی کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔
اتوار کوفلپائنز وومنز نیشنل فٹبال ٹیم کے خلاف میچ میں 0-2 سے شکست کے بعد جب ایرانی ٹیم کی بس روبینا اسٹیڈیم سے روانہ ہوئی تو تقریباً 50 مظاہرین نے بس کو گھیر لیا اور “انہیں شرم کرو” کے نعرے لگائے، جس پر پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔ ایک رپورٹ کے مطابق بس میں موجود ایک کھلاڑی نے کھڑکی سے ہاتھ کے اشارے کے ذریعے مدد کی عالمی علامت بھی دکھائی۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وانگ نے کہا کہ آسٹریلیا ایرانی خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے تاہم انہوں نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا حکومت نے ٹیم سے رابطہ کیا ہے یا انہیں مدد کی پیشکش کی ہے۔
دوسری جانب معاون وزیر خارجہ میٹ تھسلٹلٹ ویٹ کا کہنا ہے کہ اگر کھلاڑی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست دیتے ہیں تو انہیں عام درخواست گزاروں کی طرح تمام ویزا شرائط، سکیورٹی اور طبی جانچ کے مراحل سے گزرنا ہوگا اور انہیں کوئی خصوصی رعایت نہیں دی جائے گی۔
انسانی حقوق کے کارکن اور سابق آسٹریلوی فٹبال کپتان کریگ فوسٹرنے کہا کہ ایرانی کھلاڑیوں کو درپیش خطرات واضح ہیں اور عالمی فٹبال اداروں کو بھی کھلاڑیوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کی حکومت اور اپوزیشن اس معاملے پر مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کھلاڑیوں کو سیاسی پناہ دینے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیااس سے قبل 2021 میں افغانستان کی خواتین فٹبال ٹیم کو بھی طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک سے محفوظ نکلنے میں مدد فراہم کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں:نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے بعد ایرانی تازہ حملے، 4 امریکی میزائل شکن ریڈار تباہ کرنے کا دعویٰ
