اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ) حکومتِ پاکستان کی جانب سے وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے CASA-1000 منصوبہ کے حوالے سے سویڈن میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں اہم کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو 27 ملین ڈالر سے زائد کی نمایاں مالی بچت حاصل ہوگی۔
ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کے دوران پاکستان نے کنٹریکٹر کی جانب سے پیش کی گئی مالی لاگت میں خاطر خواہ کمی کروا کر ایک بڑی اقتصادی کامیابی اپنے نام کی۔ پہلے صرف پاکستان کے لیے “کیئر اینڈ کسٹڈی” کی مد میں تقریباً 32.9 ملین ڈالر خرچ ہونا تھے، تاہم کامیاب حکمتِ عملی کے باعث یہ لاگت کم کر کے 9 ملین ڈالر تک محدود کر دی گئی ہے، جو اب پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مشترکہ طور پر تقسیم ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ کم ہوا بلکہ پاکستان کے مفادات کا مؤثر تحفظ بھی یقینی بنایا گیا۔ مذاکرات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ منصوبے کے اہم اثاثوں کی حفاظت اور آپریشنل تیاری کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔
دوسری جانب CASA-1000 منصوبہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے باعث تاخیر کا شکار ہے، جس کے پیش نظر منصوبے کی نئی ٹائم لائن جاری کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (HVDC) نظام کی تکمیل اب ستمبر 2027 تک متوقع ہے۔
مزید برآں، منصوبے کی اہم تنصیبات کی عبوری حفاظت اور فعالیت کو یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر فروری 2028 کے بعد محدود مدت کے لیے توسیع دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ پیش رفت نہ صرف توانائی کے شعبے میں استحکام لائے گی بلکہ علاقائی تعاون کو بھی فروغ دے گی، جس سے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
مزید پڑھیں:سونے کی قیمت میں آج بھی ہزاروں روپے کی کمی ریکارڈ
