تھر کول میں اصلاحات: ڈیزل کی کھپت میں کمی سے سالانہ 25-30 ملین ڈالر کی بچت متوقع
اسلام آباد(اوصاف نیوز) وزیراعظم پاکستان کی قیادت اور وفاقی وزیر برائے پاور، آویس احمد لغاری کی اسٹریٹجک ہدایت پر، پاور ڈویژن نے تھر کول مائننگ کے آپریشنل مسائل کے خاتمے کے لیے اہم اصلاحات کا آغاز کر دیا ہے۔
ان اقدامات سے نہ صرف ڈیزل کی کھپت میں کمی آئے گی بلکہ سالانہ 25 سے 30 ملین ڈالر کی بچت بھی ممکن ہو گی، جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور بجلی کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔
اصلاحات کے تحت روزانہ تقریباً 25 ملین روپے ڈیزل کے اخراجات میں کمی متوقع ہے، جبکہ کوئلے کی فی ٹن قیمت میں تقریباً 0.7 ڈالر کی کمی آئے گی۔ موجودہ لاگت جو ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے میں 33 سینٹ فی کلو واٹ تھی، وہ کم ہو کر 13 سینٹ فی کلو واٹ تک پہنچ جائے گی، یعنی 60 فیصد سے زائد کمی۔
مائننگ آپریشنز میں ڈی واٹرنگ کے لیے روزانہ تقریباً 35,000 لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا تھا، جبکہ کل ڈیزل کی کھپت 200,000 سے 250,000 لیٹر فی دن تھی۔ اس بڑی بچت کے اثرات بالآخر صارفین تک کم قیمت بجلی کی صورت میں پہنچیں گے۔
تھر کول انرجی بورڈ، نیشنل گرڈ کمپنی اور ہیسکو کی مشترکہ کوششوں سے مائننگ آپریشنز کو ڈیزل سے چلنے والے نظاموں سے گرڈ سے منسلک انفراسٹرکچر کی طرف منتقل کیا جائے گا، جس کے لیے تقریباً 5.3 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس سے 132 کے وی اسلام کوٹ گرڈ اسٹیشن سے تقریباً 60 میگاواٹ بجلی مائننگ آپریشنز کے لیے دستیاب ہوگی۔
وفاقی وزیر پاور سردار آویس لغاری نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو تعاون پر مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اصلاحات معاشی و ماحولیاتی فوائد فراہم کریں گی، جن میں سالانہ تقریباً 80,000 ٹن کاربن کے اخراج میں کمی بھی شامل ہے۔
مزید برآں، ڈیزل سے چلنے والی مائننگ گاڑیوں کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جس سے کارکردگی میں بہتری آئے گی اور طویل مدتی ڈی کاربنائزیشن کے اہداف حاصل ہوں گے۔
یہ اقدامات نہ صرف توانائی کے شعبے میں کارکردگی بہتر بنانے کا عملی اقدام ہیں بلکہ توانائی کے بحران میں ملک کی توانائی کی خود کفالت کو بھی مضبوط کریں گے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز میں 18 بھارتی جہاز پھنس گئے: بھارتی ٹی وی کا دعویٰ
