اسلام آباد: حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے سرپلس پاور پیکیج نے صرف تین ماہ کے مختصر عرصے میں نمایاں نتائج دینا شروع کر دیے ہیں۔ پاور ڈویژن کے مطابق دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے دوران صارفین نے 2,164 گیگاواٹ اضافی بجلی استعمال کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پیکیج کے تحت صنعتی اور زرعی صارفین کو مجموعی طور پر 20.83 ارب روپے کا مالی فائدہ حاصل ہوا۔ اس میں سے صنعتی شعبے نے سب سے زیادہ یعنی 19.6 ارب روپے جبکہ زرعی صارفین کو 1.14 ارب روپے کا ریلیف ملا۔
اعداد و شمار کے مطابق صنعتی صارفین میں مختلف کیٹیگریز نے نمایاں فائدہ اٹھایا۔ بی تھری کیٹیگری کے صارفین نے 8.76 ارب روپے، بی ٹو نے 5.34 ارب روپے، بی فور نے 4.02 ارب روپے جبکہ بی ون صارفین نے 1.48 ارب روپے کی بچت کی۔
پاور ڈویژن کے مطابق بڑی صنعتوں (بی فور) میں سے 67 فیصد صارفین نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا، جبکہ بی تھری میں 52 فیصد، بی ٹو میں 48 فیصد اور بی ون میں 43 فیصد صارفین مستفید ہوئے۔ زرعی شعبے میں بھی 34 فیصد صارفین (2,42,451 میں سے 82,334) نے پیکیج سے فائدہ حاصل کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کا بنیادی مقصد بجلی کی کھپت میں اضافہ، اضافی پیداواری صلاحیت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا اور صنعتوں کو مہنگی بجلی پیدا کرنے کے بجائے نیشنل گرڈ سے سستی بجلی کے استعمال کی طرف راغب کرنا تھا۔
یہ سرپلس پاور پیکیج دسمبر 2025 میں متعارف کرایا گیا تھا، جس کا مقصد صنعتی اور زرعی صارفین کو طویل مدتی مالی ریلیف فراہم کرنا اور معیشت کو متحرک کرنا تھا
مزید پڑھیں:سابق وزیر خارجہ انتقال کر گئے
