سندھ(اوصاف نیوز) مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر موٹرسائیکل والے کو اپریل میں 2 ہزار دیے جائیں گے، 20 لیٹر کےحساب سے ہر ایک لیٹر پر 100 روپے ملیں گے، ایپ میں جس کے نام پر موٹرسائیکل ہوگی اس کے اکاؤنٹ میں پیسے دیے جائیں گے۔
وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے لئے پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا ہے، خطے کی صوررتحال کشیدہ ہے اور پاکستان جنگ ختم کروانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے ، جنگ تو ختم ہونی ہے اثرات ہمارے خطے پر پڑے ہیں،پاکستان نے خطے میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے مشکل وقت میں قوم کو یکجا کیا ہے، چاروں وزراء اعلیٰ سے صدر آصف زرداری نے صورتحال پر مشاورت کی، وفاقی حکومت سے ساتھ صوبائی حکومت کے کئی اجلاس ہوئے ہیں،پھر کل وزیراعظم کے ساتھ اجلاس کیا جس میں کئی فیصلے ہوئے،ملک کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشکل فیصلے گئے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم اپنا مچورٹی فیول امپورٹ کرتے ہیں، دنیا میں تیل کی قیمتیں بڑھرہی تھیں مگر ہم نے تین ہفتوں تک اضافہ نہیں کیا،قیمتیں نہ بڑھانے کے فائدے بھی تھی اور نقصانات بھی، حکومت پیٹرولیم پرائسز میں سبسڈی دیتی ہے ، سبسڈی تمام لوگوں حاصل کرتے ہیں اس میں امیر اور غریب دونوں کو یکساں ہوتی تھی،آئی ایم ایف کا بھی کہنا تھا کہ آپ امیروں کو کیوں سبسڈائیز کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی یہی موقف تھا کہ صرف غریبوں کو سبسڈی فراہم کی جائے،کل وزیراعظم کے ساتھ اجلاس میں چاروں صوبوں نے اپنی اپنی تجاویز دیں۔حتمی طور پر 4 کمپوننٹ طئے ہوئے، دو کمپوننٹس ایڈمنسٹریٹر صوبوں نے کرنے ہیں اور ایک کمپوننٹ وفاق نے کرنا ہے مگر رقم صوبے ادا کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں 66 لاکھ موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں،ہم نے فیصلہ کیا ہے موٹرسائیل والوں کو سبسڈی دی جائے، سبسڈی فراہم کرنے کے لئے موبائل ایپ تیار کی گئی ہے،ایپ کے ذریعے رجسٹریشن کے بعد سبسڈی دی جائے گی،تقریباً 100 روپے موٹر سائیکل سواروں کو سبسڈی فراہم کی جائے گی،ہر موٹرسائیکل سوار کو ایک ماہ میں دوہزار روپے سبسڈی ملے گی،موٹرسائیکل کی ٹرانسفر مفت کر رہے ہیں ،سندھ حکومت 15 سے 20 اپریل کے درمیان فی موٹرسائیکل مالک کو 2 ہزار روپے دے گی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے، ہم کاشتکاروں کو بھی سبسڈی فراہم کرینگے،چھوٹے کاشتکاروں 25 ایکڑ سے کم کو ہم نے گندم کے لیے ڈی اے پی یوریا دی، ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے، کوئی اور وجوہات ہوسکتی ہیں زمین آپ کے نام پر نہ ہو،ہم نے کاشتکاروں کو سبسڈی دینے میں بہت شفافت سے کام کیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے اضافہ سے کاشتکاروں کو بھی نقصان پہنچےگا،تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار آبادگاروں (25 ایکڑ سے کم) کے پاس 20 لاکھ ایکڑ زمین ان کے پاس ہے،ان چھوٹے کاشتکاروں سے گندم بھی ہم خرید کرینگے ، تھریشنگ کی ایڈیشنل کاسٹ کی مد میں 1500 روپے فی ایکڑ کے حساب سے رقم بھی فراہم کرینگے،یہ سبسڈی صرف چھوٹے زمینداروں کے لئے ہیں، بڑے زمینداروں کو خود برداشت کرنا پڑےگا۔
مزید پڑھیں:پیٹرول کی تازہ ترین قیمت
