Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بجلی صارفین کو 46 ارب روپے کا ریلیف، قیمت میں ممکنہ بڑے اضافے سے بچاؤ کے اقدامات جاری

اسلام آباد (اوصاف نیوز) پاور ڈویژن کے ترجمان نے کہا ہے کہ جولائی سے فروری تک بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 46 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بجلی کی قیمت میں 71 پیسے فی یونٹ کمی بھی ممکن بنائی گئی۔

ترجمان کے مطابق یہ بہتری سسٹم میں اصلاحات، ریلیف پیکجز، میرٹ آرڈر پر سختی سے عملدرآمد اور مؤثر منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ کم لاگت والے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے سے بھی اخراجات میں کمی لائی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ترسیلی اور انتظامی سطح پر اصلاحات کر کے نقصانات کم کیے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر سخت حالات کے باوجود ملک میں بجلی کی پیداوار مستحکم ہے اور اس وقت بھی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ پیک آورز (شام 5 بجے سے رات 1 بجے تک) میں بجلی کی طلب میں اضافہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس دوران مہنگے ایندھن کے استعمال سے بجلی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے بچنے کے لیے روزانہ تقریباً سوا دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا رہا ہے اور بجلی کی قیمت میں ممکنہ اضافے کو روکا جا رہا ہے۔ پیک آورز میں 2.25 گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے تقریباً 3 روپے فی یونٹ اضافے سے بچاؤ ممکن بنایا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا تھا، جبکہ اب بھی فرنس آئل کے محدود استعمال کے باوجود تقریباً ڈیڑھ روپے فی یونٹ اضافے کا امکان موجود ہے۔

مزید بتایا گیا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر مقامی گیس کے 80 ایم ایم سی ایف ایف ڈی پاور پلانٹس کو فراہم کیے گئے ہیں، جس سے بجلی کی قیمت میں 80 پیسے فی یونٹ اضافے اور اضافی لوڈ مینجمنٹ سے بھی بچاؤ ممکن ہوا ہے۔

ڈسکوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہر فیڈر کی لوڈ شیڈنگ کے اوقات صارفین کے ساتھ شیئر کیے جائیں تاکہ عوام کو پیشگی آگاہی حاصل ہو سکے۔

ترجمان نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عالمی حالات کے باوجود عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے اور ہر ممکن اقدام کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جائے۔ کمرشل مارکیٹس کی بروقت بندش سمیت دیگر اقدامات کے ذریعے بجلی کی طلب کم کر کے قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو مزید کم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اس پالیسی کو حکومت کی “پیک ریلیف اسٹریٹجی” کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
مزید پڑھیں:امریکا ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ : سعودی عرب بھی میدان میں آگیا،ٹرمپ سے اہم مطالبہ کردیا ،جانیے

یہ بھی پڑھیں