اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد پولیس نے وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں واقع نوری باغ محلے میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات کا مقدمہ درج کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس نے واقعے کا مقدمہ سی ڈی اے افسر کی شکایت پر درج کر لیا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، مقدمے میں درجنوں معلوم و نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق منگل کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے عقب میں واقع بری امام کے مزار کے قریب نوری باغ محلے میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کے دوران پرتشدد واقعات پیش آئے، جس میں سرکاری اہلکار اور مقامی افراد زخمی بھی ہوئے۔
پولیس کے مطابق اس موقع پر جوابی کارروائی کے دوران درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق متاثرین نے دعویٰ کیا کہ سی ڈی اے نے بغیر کسی وجہ کے ان کے خلاف کارروائی کی اور جن مکانات میں وہ رہ رہے ہیں وہ ان کی قانونی ملکیت ہے کیونکہ انہوں نے یہ مکانات لاکھوں روپے میں خریدے تھے۔
دوسری جانب سی ڈی اے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مظاہرین غیر قانونی رہائش گاہوں میں رہائش پذیر ہیں، اور غیر قانونی رہائش پذیر افراد کو وہاں سے جانے کا کہا جس پر ہنگامہ آرائی ہوئی۔
سی ڈی اے کے مطابق اس آپریشن کے دوران 60 کنال اراضی واگزار کرائی گئی جبکہ مسلم کالونی سمیت دیگر علاقوں میں اب تک مجموعی طور پر 600 ایکڑ اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے۔
ادھر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے معاملے پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد بھر سے غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے محتاط لیکن تیزی سے کام جاری ہے۔ عدالتی احکامات کے بعد جب سی ڈی اے کی ٹیم احاطے کو خالی کرانے جائے وقوعہ پر پہنچی تو ان پر حملہ کیا گیا، جس میں اہلکار زخمی ہوئے، جب کہ سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ اسلام آباد میں ناجائز تجاوزات اور قبضوں کے خلاف آپریشن بغیر کسی دباؤ کے جاری رہے گا۔ تجاوزات کے ذریعے اسلام آباد کی گرین لینڈ کو ‘براؤن لینڈ’ میں تبدیل کر دیا گیا اور اب اس حوالے سے حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ اسلام آباد کے پورے شہر سے ایسی غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سےمتعلق نیا تنازع کھڑا کر دیا،مکمل تفصیلات
