Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

صومالی قزاقوں کا آئل ٹینکر پر قبضہ، 11 پاکستانی بھی یرغمال

صومالیہ (somalia)کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جس میں 11 پاکستانی شہریوں پر مشتمل عملہ بھی موجود تھا۔ متاثرہ جہاز کا نام اونر 25 بتایا جا رہا ہے۔

شپنگ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 21 اپریل کو پیش آیا جب صومالی قزاقوں نے سمندر میں سفر کرنے والے ٹینکر کو نشانہ بنایا اور اس پر قابو پا لیا۔ واقعے کے بعد جہاز کا رابطہ منقطع ہو گیا جس پر عملے کے اہلخانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ بحری امور کے ڈائریکٹوریٹ آف پورٹ کی جانب سے بھی پاکستانی عملے سے رابطہ قائم نہیں ہو سکا، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ جہاز کی نگرانی اور ٹریکنگ سے متعلق معلومات بھی محدود ہیں۔

دوسری جانب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اسی علاقے میں ایک اور جہاز کو بھی قزاقوں نے نشانہ بنایا تھا، تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر 5 ملین ڈالر تاوان کی ادائیگی کے بعد اسے 23 افراد سمیت چھوڑ دیا گیا۔ اس واقعے نے خطے میں بحری تحفظ کے حوالے سے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مزیدپڑھیں:گاڑیوں کی امپورٹ کے لیے سخت ترین طریقہ، نان فائلرز کے لئے اہم خبر

اطلاعات کے مطابق متاثرہ جہاز کو روانہ کرنے والی شپنگ ایجنسی نے اس معاملے پر تاحال کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا، جس پر اہلخانہ اور متعلقہ حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

عملے کے اہلخانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے کیپٹن کی رہائی کے لیے انڈونیشین حکام قزاقوں سے رابطے میں ہیں، تاہم پاکستانی عملے کے حوالے سے اب تک کسی باضابطہ پیش رفت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ماہرین کے مطابق صومالیہ کے قریب بحری قزاقی کے بڑھتے ہوئے واقعات عالمی تجارت اور سمندری راستوں کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جس کے لیے فوری اور مشترکہ بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں