لاہور(اوصاف نیوز) بینک آف پنجاب، جو پاکستان کے نمایاں سرکاری کمرشل بینکوں میں شمار ہوتا ہے، نے سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے مالی نتائج جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق بینک کے منافع میں 155 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بینک انتظامیہ کے مطابق یہ غیر معمولی کارکردگی اسٹریٹجک توسیع، بہتر کاروباری حکمت عملی اور ڈیجیٹل جدت کے باعث ممکن ہوئی۔

بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والی مدت کے غیر آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کا جائزہ لے کر منظوری دے دی۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ٹیکس سے پہلے منافع 10.2 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 155 فیصد زیادہ ہے۔
اسی طرح آپریٹنگ منافع میں 98 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ نیٹ انٹرسٹ انکم 47 فیصد بڑھ کر 22.1 ارب روپے تک جا پہنچی۔ نان انٹرسٹ انکم میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، جہاں فیس پر مبنی آمدنی میں 69 فیصد اضافہ ہوا۔
بینک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ توڑ نتائج مؤثر حکمت عملی، مضبوط رسک مینجمنٹ اور مارکیٹ مواقع سے فائدہ اٹھانے کا نتیجہ ہیں۔ بینک نے اپنی فیس پر مبنی خدمات، کیپٹل مارکیٹس مصنوعات اور جدید مالیاتی سہولیات کے ذریعے آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا۔
مالی حیثیت کے حوالے سے بینک کے کل اثاثہ جات 2,599 ارب روپے تک پہنچ گئے، جو بیلنس شیٹ کی نمایاں توسیع کو ظاہر کرتے ہیں۔ ڈپازٹس 1,932 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ کرنٹ ڈپازٹس میں 26 فیصد اضافہ ہوا، جس سے فنڈنگ لاگت میں بہتری آئی۔
بینک کا کیپیٹل ایڈیکیسی ریشو 13.37 فیصد رہا، جو مستقبل کی ترقی کے لیے مضبوط مالی گنجائش ظاہر کرتا ہے۔ مجموعی قرضے 927 ارب روپے تک پہنچ گئے، جبکہ سرمایہ کاری اور مالیاتی اداروں کو قرضوں کی مد میں 1,429 ارب روپے بانڈز اور ایکویٹیز میں لگائے گئے۔
بینک آف پنجاب نے پنجاب حکومت کے ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کی ہے۔ بینک اہم عوامی فلاحی منصوبوں، ترقیاتی اہداف اور حکومتی اقدامات میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے، جس سے اسے مستحکم اور قابل پیش گوئی آمدنی کے ذرائع حاصل ہو رہے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق ڈیجیٹل جدت، صارف دوست سہولیات اور مالی شمولیت پر توجہ دے کر بینک کم خدمات یافتہ علاقوں اور نئے شعبوں میں بھی تیزی سے اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔
بینک آف پنجاب کا کہنا ہے کہ مضبوط سرمایہ، بہتر آپریشنل کارکردگی اور متنوع آمدنی کے ذرائع کی بدولت ادارہ مستقبل میں بھی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے اور شیئر ہولڈرز کو پائیدار منافع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں:نسوار سے متعلق نیا قانون؟اب سزائیں اور جرمانے
