Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

کالعدم تنظیم سے تعلق اور بھرتیوں کے الزام میں لاہور سے CTD نے یوٹیوبر گرفتار کرلیا، اہلخانہ کی الزامات کی تردید

 لاہور، لندن (اوصاف نیوز) صوبائی دارالحکومت لاہور میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک یوٹیوبر کو مبینہ طور پر کالعدم تنظیم  کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے جبکہ اہلِخانہ نے سی ٹی ڈی کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف بعد از گرفتاری ایک بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا، سی ٹی ڈی کی جانب سے سعد کے خلاف ایف آئی آر اپنے ایک اہلکار کی مدعیت میں دائر کی گئی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق  سی ٹی ڈی کی جانب سے گرفتار کیے گئے یوٹیوبر کی شناخت ایک یوٹیوب چینل سے منسلک محمد سعد بن ریاض کے نام سے ہوئی ،  محرر تو قیر اسلم کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ 27 اپریل کی صبح وہ سی ٹی ڈی کے دیگر اہلکاروں کے ہمراہ اشتہاری مجرمان کی تلاش میں لاہور کے جی پی او چوک، مال روڈ پر موجود تھے کہ انھیں مخبر نے اطلاع دی کہ مزنگ روڈ پر واقع مسجد حنفیہ غوثیہ میں کالعدم تنظیم القاعدہ کا ایک مبینہ رکن موجود ہے جو لوگوں کو کالعدم تنظیم میں شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہے اور ان میں ممنوعہ کتب بھی تقسیم کر رہا ہے۔

پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ جب صبح کے قریب ریڈ کی گئی تو مخبر کی نشاندہی پر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جس نے اپنا نام محمد سعد بن ریاض بتایا، ایف آئی آر کے مطابق تلاشی کے دوران سعد کے پاس موجود بیگ سے   کتاب کے پانچ نسخے برآمد ہوئے جو سی ٹی ڈی کے مطابق ممنوع کتب میں شمار ہوتی ہے، ممبرشپ کارڈ بھی برآمد ہوا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعد بن ریاض کی اہلیہ عائشہ قیوم نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سوموار کی صبح تقریباً ساڑھے تین بجے 12 سے 13 نقاب پوش مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے اور سعد کو اپنے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے،   جب قانونی دباو ڈالا گیا تو اس کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انتہائی مضحکہ خیز بنیادوں پر ان کے شوہر کے خلاف ایف آئی آر درج کی حالانکہ  سعد ماضی میں ریاستی اداروں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔

ادارہ جس سے سعد منسلک ہیں  کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں اس گرفتاری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا کہا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق  سی ٹی ڈی اور سعد کے ساتھیوں و اہلخانہ کی جانب سے کیے گئے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
مزید پڑھیں:گوادر میں کام مشکل، چینی کمپنی نے سرگرمیاں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا

یہ بھی پڑھیں