لاہور (نیوز ڈیسک) کوٹ لکھپت جیل میں صنم جاوید کی طبیعت اچانک خراب ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر لاہور کے جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ واقعے کے بعد سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جب کہ ان کے اہل خانہ نے طبی سہولیات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
صنم جاوید کے شوہر کے مطابق انہیں آنکھوں اور پیٹ میں شدید درد کی شکایت تھی جس کے باعث انہیں جیل ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ تاہم جب اس کی حالت خراب ہوئی تو ڈاکٹروں نے اسے فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صنم جاوید کو سخت سیکیورٹی میں اسپتال لایا گیا، جہاں جناح اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ان کا طبی معائنہ اور علاج جاری ہے۔
ہسپتال انتظامیہ نے تاحال بیماری کی مکمل نوعیت یا میڈیکل رپورٹ جاری نہیں کی جس کی وجہ سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
واضح رہے کہ صنم جاوید کو عدالت نے 9 مئی کو کیس میں 5 سال قید کی سزا سنائی تھی اور وہ اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔ ان کی طبیعت اچانک خراب ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قید سیاسی شخصیات کی صحت اور طبی سہولیات کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جب کہ صنم جاوید کی صحت کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
مزید پڑھیں:اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان انتخابات کیلئے ٹکٹوں کا اعلان
