Search
Close this search box.
بدھ ,17 جون ,2026ء

ایکس کی بندش عدالت نے متعلقہ اداروں سے جواب طلب کر لیا

پشاور ہائیکورٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کی بندش کے خلاف درخواست پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، حکومت اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب کرلیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس وقار احمد نے ایکس کی بندش کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔

عدالت نے درخواست گزار سے پوچھا کہ اگر سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز کھلے ہیں تو صرف ایکس کو کیوں بند کیا گیا ہے؟ جس پر وکیل درخواست گزار نعمان محب کاکاخیل نے کہا کہ ایکس ایک باقاعدہ پلیٹ فارم ہے، جسے ہر کوئی استعمال کرتا ہے۔

  مزید پڑھیں :  عمران حکومت کے خلاف ساز ش نہیں کی ،ڈونلڈ لو نے جیسے ہی یہ کہاتو ساتھ بیٹھے لوگوں نے کیاکہا،ویڈیو سوشل میڈیاپروائرل

عدالت نے کہا کہ ایکس کو کیوں بند کیا گیا ہے، وزارت داخلہ نے وجوہات نہیں بتائی ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وزارت داخلہ اور پی ٹی اے سے جواب طلب کرنا ضروری ہے کہ اسے کیوں بند کیا گیا۔ بعد ازاں عدالت نے کہا۔ سماعت ملتوی کر دی گئی۔

پاکستان بھر میں 17 فروری سے بند ہونے والی ایکس کی سروس اب تک بحال نہیں ہو سکی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان میں ایکس کی سروس کیوں بند ہے۔ حکومت نے بھی اس حوالے سے کوئی وضاحت جاری نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں