راولپنڈی (نیوزڈیسک) راولپنڈی میں 994 بجلی چوروں کو گرفتار جبکہ 88 ملین روپے سے زائد کی ریکوری کی گئی ہے۔
یہ بات کمشنر راولپنڈی ڈویژن انجینئر نے بتائی۔
انہوں نے بتایا کہ 7 ستمبر 2023 سے اب تک 1186 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ ڈویژن کے تمام اضلاع میں بجلی چوری کی 100 فیصد ریکوری کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے عید کے دنوں میں خاص طور پر مری میں بجلی کی فراہمی کے تمام انتظامات مکمل کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ عید کی تعطیلات کے لیے مری میں اضافی افرادی قوت تعینات کی جائے اور عید کی تعطیلات میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے بیک اپ پلان بھی تیار کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ انسداد بجلی چوری کے حوالے سے راولپنڈی ڈویژن کی کارکردگی صوبے میں بہترین ہے۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ وہاں بجلی چوری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں چیکنگ کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے حکم دیا کہ مری میں بہت سے ہوٹلوں میں الیکٹرک ہیٹر استعمال ہوتے ہیں ان کی بھی جانچ پڑتال کی جائے۔
صوبائی حکومت نے ہدایت کی تھی کہ جن فیڈرز پر بھاری لائن لاسز ہیں، ان فیڈرز پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے بجلی چوروں کی نشاندہی کرکے انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجا جائے۔
عامر خٹک نے کہا کہ بجلی چوروں سے انفرادی وصولی ہونی چاہیے نہ کہ پورے علاقے یا گاؤں کو جرمانہ کیا جائے۔
ادھر پولیس ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر راولپنڈی کی ضلعی پولیس نے بھی بجلی چوری کے خلاف جاری آپریشن کو مزید تیز کر دیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق ضلع راولپنڈی کی پولیس نے رواں سال بجلی چوری کے خلاف 186 ایف آئی آر درج کیں۔
انہوں نے بتایا کہ 80 سے زائد ملزمان کو سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رواں ہفتے بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں 63 مقدمات درج کیے گئے۔بجلی چوری میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
سی پی او نے مزید کہا کہ بجلی چوری میں ملوث افراد قومی مجرم ہیں جو کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

