اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے مطالبہ کیا ہے کہ کیپٹیو پاور پلانٹس کے گیس ٹیرف آر ایل این جی کے برابر کیے جائیں۔
آئی ایم ایف نے حکومت سے کہا ہے کہ کیپٹیو پاور پلانٹس (سی پی پیز) کے لیے یکم جولائی 2024-25 سے گیس ٹیرف میں آر ایل این جی کی قیمت میں برابر اضافہ کیا جائے، تاہم وزارت توانائی کے سینئر حکام نے بتایا کہ ملک کی صنعت جو کیپٹیو پاور پلانٹس چلاتا ہے، یقیناً اس پر سخت ردعمل ظاہر کرے گا۔
لیکن حکومت کے پاس کیپٹیو پاور پلانٹس کے لیے گیس کی قیمتیں آر ایل این جی کی قیمتوں کے برابر بڑھانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا کیونکہ سی پی پیز کی کارکردگی 30-35 فیصد ہے اور زیادہ تر سی پی پیز سوئی سدرن نیٹ ورک میں نصب ہیں۔ جن کے گیس ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں : پاکستان کو 3 ارب ڈالرز کی ادائیگی کل ، آئی ایم ایف کیجانب سے بڑی خوشخبری
وزارت توانائی کے حکام نے بتایا کہ حکومتی حکام نے سی پی پیز کو قومی پاور گرڈ میں منتقل کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے دسمبر 2024 تک کا وقت مانگا تھا کیونکہ ان میں سے بہت سے نیشنل گرڈ سے منسلک نہیں ہیں لیکن آئی ایم ایف نے ابھی تک اس پر اتفاق نہیں کیا۔ اس بات پر اصرار کرتے ہوئے کہ یکم جولائی 2024 سے لاگو آر ایل این جی کی قیمت تک ٹیرف میں اضافے کے ساتھ کام جون 2024 تک مکمل کیا جائے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ جب اوگرا 2024-25 میں سوئی گیس کمپنیوں کی آمدنی کی ضروریات کو پورا کرنے کے اپنے عزم کے تحت گیس کے نرخوں میں اضافہ کرے گا تو گیس صارفین کو کس طرح ٹیرف میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا، اہلکار نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے حکم پر کیپٹیو پاور پلانٹس کے گیس ٹیرف میں اضافے کا ذہن بنا لیا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت پاور سیکٹر کے لیے گیس ٹیرف میں اضافے پر بھی غور کر رہی ہے کیونکہ پاور پلانٹس کے لیے گیس کی موجودہ قیمت 1050 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔
اعلیٰ حکام نے گڈو پاور پلانٹ، کے ای پاور پلانٹ، نوری آباد پاور پلانٹ اور اینگرو پاور سمیت ایسے پاور پلانٹس کی نشاندہی کی ہے جن کے گیس ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا۔
گڈو پاور پلانٹ سے 180 ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس 1050 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو، کے ای پاور پلانٹ 10 ایم ایم سی ایف ڈی، نوری آباد پاور پلانٹ 20 ایم ایم سی ایف ڈی اور اینگرو پاور پلانٹ 35 ایم ایم سی ایف ڈی ملتی ہے۔
گیس کے نرخوں میں دو اضافے کے باوجود جنوری 2023 سے پاور سیکٹر کے لیے گیس ٹیرف میں اضافہ نہیں کیا گیا، تاہم گھریلو شعبے کے صارفین پہلے ہی نہ صرف آر ایل این جی کی قیمت کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ ٹیرف ادا کر رہے ہیں۔
پچھلی بار بھی حکومت نے تحفظ یافتہ صارفین کے گیس ٹیرف میں 67 فیصد اضافہ کیا تھا۔ موجودہ حکومت محفوظ اور دیگر گھریلو صارفین کے گیس ٹیرف میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتی۔

