Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

لاہور ہائیکورٹ :شادی کی عمرمیں فرق کی شق کالعدم ، قانون میں ترمیم کا حکم

لاہور(نیوزڈیسک)لاہور ہائیکورٹ میں شادی کی عمر کے تعین کے حوالے سے کیس کی سماعت ،لاہور ہائیکورٹ نےلڑکی اورلڑکےکی شادی کی عمرمیں فرق کی شق کالعدم قراردیدی، لاہور ہائیکورٹ کا شادی کی عمر18سال کرنے کے95برس پرانےقانون میں ترمیم کاحکم ،لاہورہائیکورٹ کےجسٹس شاہد کریم نے 5صفحات کاتحریری فیصلہ جاری کردیا ۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماجی وجسمانی عوامل پرچائلڈ میرج کیخلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، شادی کےقانون کامقصد سماجی اقتصادی،تعلیمی عوامل کےساتھ جڑناچاہیے،آبادی کےآدھے حصےکی صلاحیتوں کو کم عمری کی شادی،بچوں کی پیدائش میں گنوایانہیں جاسکتا،آئین کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں، کسی بھی شہری کےساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا،

مزید یہ بھی پڑھیں:‌پاکستان کرکٹ بورڈ میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی ملازمین کی فہرستیں طلب

چائلڈ میرج ایکٹ 1929میں لڑکے لڑکی کی عمر میں فرق امتیازی سلوک ہے،عمر کےاس فرق کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا جاتا ہے،حکومت چائلڈ میرج ایکٹ کے قانون میں 15 روز میں ترمیم کرے، عدالت کا حکم،پنجاب حکومت قانون میں ترمیم کر کےویب سائٹ پر بھی شائع کرے

،ایکٹ کےتحت لڑکے کی شادی کی عمر 18اور لڑکی کی 16سال مقرر کی گئی،درخواست گزار، آئین کےمطابق خواتین اور مردمساوی حقوق کے رکھتے ہیں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لڑکیاں نسبتاً زیادہ کم عمری کی شادی کاشکار ہوتی ہیں جبکہ کم عمری کی شادی سےبچوں کی پیدائش کے وقت اموات زیادہ ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں