لاہور (ویبڈیسک)بجلی کے بھاری بلوں سے تنگ پاکستانی آج کل دھڑا دھڑ سولر پینلز لگوانے کیلئے پیسوں کا جگاڑ لگانے میں مصروف ہیں لیکن ایک ایسی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس نے پاکستانیوں کی آنکھیں ہی کھول کر رکھ دیں ہیں جو کہ بجلی کی فی یونٹ پیدوار کی لاگت کو بیان کر رہی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی علی خضر نے ٹویٹر پر ’ جے ایس گلوبل‘ کی رپورٹ شیئر کی جس میں چشم کشا انکشافات کیئے گئے ہیں ، رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ مارچ 2024 میں پاکستان میں استعمال ہونے والی بجلی کا 54 فیصد حصہ ڈیمز اور نیوکلیئر کے ذریعے بنایا گیا ،جس کی فی یونٹ لاگت تقریبا نہ ہونے کے ہی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستانیوں کو اتنے بھاری بل کیوں بھیجے جارہے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو قیمت ہم بجلی استعمال کرنے کی آئی پی پیز کو ادا کررہے ہیں وہ پریشان کن ہے جس کے باعث فی یونٹ بجلی کی قیمت آسمان چھونے لگتی ہے ۔
مزیدپڑھیں :خیبر پختونخوا حکومت بجلی چوری معاملے پر وفاق سے بات چیت کیلئے تیار ، مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا
جے ایس گلوبل کی رپورٹ کے مطابق ہائیڈل سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت صفر ہے جبکہ نیوکلیئر سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت فی یونٹ صرف ڈیڑھ روپیہ ہے جوکہ بجلی کا 54 فیصد حصہ پیدا کر رہے ہیں، اس کے برعکس کوئلے سے بنائی گئی بجلی کی فی یونٹ قیمت 16.8 روپے ہے ، آر ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی فی یونٹ قیمت 22.2 روپے ، گیس سے بنائی جانے والی بجلی کے فی یونٹ کی قیمت 13.7 روپے ہے ۔
