لاہور (ویب ڈیسک) قائد ن لیگ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ 1993 میں ملکی ترقی کے لیے جو ایجنڈا دیا اگر اس پر عمل ہوجاتا تو آج ہمارا ملک ایشیا میں سب سے آگے ہوتے، آج تک سمجھ نہیں آیا کہ ہماری حکومت کا تختہ کیوں الٹا؟
ن لیگ کی ورکنگ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ مجھ پر جھوٹے مقدمات ایکسپوز ہوئے بہت کچھ ہوا، ن لیگ کے رہنماؤں کو جھوٹےمقدمات میں گرفتار کیا گیا، ان لوگوں کے نام نہیں لینا چاہتا لیکن یہ ضرور بتادوں اگر اس منصوبے پر عمل ہوجاتا تو آج ہمارا ملک دنیا میں بہت اوپر ہوتا اور ایشیا میں سب سے آگے ہوتے۔
مزیدپڑھیں :مرشد کے دیدار کی خوشی میں عمران ریاض کا رقص،حقیقت کیاہے ؟جانیں
انہوں نے کہا کہ لوگوں نے تنقید کی موٹرویز پر پیسے ضائع کیے لیکن آج دنیا نے دیکھا کہ موٹر ویز کی وجہ سے کتنا فائدہ پہنچا، ہمیں دوبارہ موقع ملا تو ملکی دفاع میں بھی حصہ ڈالا اور ملک کو ایٹمی قوت بنایا، پاکستان کو 1998ء پانچ ارب ڈالر کی پیشکش کی گئی جو کہ اس وقت بہت بڑی رقم تھی کہ ہم ایٹمی دھماکے نہ کریں، آج سب کہتے ہیں کہ ہم نے وہ رقم نہ لے کر اور دھماکے کرکے درست فیصلہ کیا لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پرویز مشرف نے مارشل لا لگا کر ملکی وزیراعظم کو ہائی جیکر بنادیا گیا، رات وزیراعظم اور صبح ہائی جیکر بن گیا، مجھے 27 سال قید کی سزا سنائی گئی۔نواز شریف نے کہا کہ عمران خان نے کہنے پر بنی گالا کی سڑکیں بنائیں، اس کے بعد سب لوگ لندن پہنچے اور دھرنوں کا آغاز ہوگیا، کہاں سے ان کو اشارہ ہوا کچھ نہیں بتایا، ان کا اخلاقی فرض تھا کہ ہمیں بتاتے کہ آپ سے ان ان باتوں پر اختلاف ہے۔

