ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ایک بار پھر فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو وارننگ جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں مقامی اور درآمدی ادویات پر بارکوڈ لگانے کی ہدایت کی ہے۔
ڈریپ کا کہنا ہے کہ ادویات کے ڈبوں پر بارکوڈ پرنٹ کرنے کا مقصد جعل سازی روکنا ہے، اور مقررہ مدت میں اس کی تعمیل نہ کرنے پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک کے ادارے نیورالنک کودوسرے مریض میں دماغی چپ لگانے کی اجازت مل گئی
اس حوالے سے دوا ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اتنے کم وقت میں ادویات پر بارکوڈ پرنٹ کرنا ممکن نہیں، ملک بھر میں بارکوڈ پرنٹ کرنے اور پڑھنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔
دوا ساز کمپنیوں کا کہنا تھا کہ ڈبوں پر بارکوڈ پرنٹ کرنے سے ادویات پر قیمت بھی بڑھ جائے گی۔


