سینیٹر فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں غیر مشروط معافی مانگنے سے انکار کردیا۔ سینیٹر فیصل واوڈا کا جواب 16 صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت نوٹس کا جواب جمع کرا دیا۔جواب میں فیصل واوڈا نے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین نہیں، پریس کانفرنس کا مقصد ملک کی بہتری ہے۔ .
واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے عدلیہ مخالف بیان پر غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ بیان حلفی میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز کا احترام کرتے ہیں۔ عدلیہ اور ججوں کی اتھارٹی اور ساکھ کو بدنام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نےچھ ہفتے کی گرمیوں کی تعطیلات کا اعلان کر دیا
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عدلیہ سے متعلق اپنے بیان پر غیر مشروط معافی مانگتا ہوں، خاص طور پر 16 مئی کو پریس کانفرنس میں معزز عدالت سے معافی کی درخواست کرتا ہوں اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے عدلیہ کے خلاف بیان دینے پر سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل ہو گی۔


