راولپنڈی (نیوزڈیسک)عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے ارٹیکل 25 کے تحت کیسز کی سماعت کے دوران پسند ناپسند نہیں ہونی چاہیے ۔پی ٹی آئی اور میرے مقدمات کے ہر بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیسے آ جاتے ہیں۔ میرے وکلا نے قاضی فائز عیسیٰ کی ہر بینچ میں موجودگی پر اعتراض کیا ہے اب ہمیں شک ہے کہ ہمیں انصاف نہیں ملناجسٹس گلزار کے پانچ رکنی بینچ نے بھی کہا تھا کہ قاضی فائز عیسی ہمارے کیس نہیں سن سکتے ۔ہمارے وکلا کا خیال ہے کہ ہمیں انصاف نہیں ملے گا اس لئے ہمارے کیسز کسی اور کو سننے چاہئیں، جیل میں بیٹھے دو بندے سارا نظام چلا رہے ہیں میری ٹیم کل مجھ سے ملاقات کیلئے آئی تھی تین گھنٹے تک وہ اڈیالہ جیل کے باہر اور میں اندر ان کا انتظار کرتا رہا کل مجھے اپنی ٹیم سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اگر ملاقات ہوتی تو میں ان کے اختلافات ختم کروا دیتا۔
سپرٹینڈنٹ نے جیل میں بیٹھے کرنل کے کہنے پر میری ٹیم سے ملاقات نہیں کروا ئی، میں بھوک ہڑتال کرنے کے بارے میں مشاورت کر رہا ہوں اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں بھوک ہڑتال کروں گاپہلے پاکستان ہائبرڈ تھا اب اتھرٹیٹو پر چلا گیا ہے۔ اب ملک میں ڈکٹیٹر شپ ہے ساری دنیا کو پتہ ہے پاکستان میں کیا ہو رہا ہے یہ کانگرس اور اقوام متحدہ کی قرارداتوں کی باتیں کرتے ہیں یہ کہتے ہیں۔ ہم افغانستان پر حملہ کر دیں گے جبکہ ان کے کرنر اور ویجر یہاں جیل میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔
سپرٹینڈنٹ جیل ان کی نوکری کر رہا ہے۔ یہ جب کہتے ہیں وہ میری میٹنگمنسوخ کروا دیتا ہے ،یہ پاگل ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ میری پارٹی کمزور ہوگی۔ انہیں پتہ ہی نہیں جس پارٹی کا ووٹ بینک ہو وہ کمزور نہیں ہوتی۔اسٹیبلشمنٹ نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا جنازہ نکال دیا۔ بجٹ کے بعد ان کی سیاست ختم ہو گئی۔ ان کے ساتھ وہ ہو گیا جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں ہونا چاہیے ۔میں جیل سے پارٹی قائدین کو پیغام دے رہا ہوں کہ اپنے اختلافات عوام میں لے کر نہ جائیںاگر آپ اختلافات عوام میں لے کر جائیں گے تو آپ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جائیں گے ۔
ایس ائی ایف سی ملک ٹھیک نہیں کر سکتی ملک کے مسائل کا حل صاف شفاف انتخابات میں ہے برصغیر میں 1990 تک پاکستان سب سے اگے تھا لیکن اج سب پاکستان سے اگے ہیں اور ہمارا ملک میانمار کی طرف بڑھ رہا ہیموجودہ بوران سے صرف وہ پارٹی ملک کو نکال سکتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو ملک میں ایلیٹ کلاس کا بجٹ آگیا ۔ عوام پٹ گئے ۔ ملک کو صرف ایلیٹ کنٹرول کر رہی ہے صدر کا کیا کام ہے کہ وہ صدر ہاوس کے اخراجات بڑھا دے بجلی اور گیس کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے عام تاثر ہے کہ اپ کے پارٹی قائدین نے عہدے حاصل کر لیے لیکن اپ کو جیل سے باہر نکالنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہے صحافی کا سوال ،میرے حوالے سے قومی اسمبلی میں عمر ایوب، سینٹ میں شبلی فراز سمیت علی امین گنڈا پور بڑے تگڑے بولے اور کوشش کی مذاکرات اور بات چیت کا وقت اٹھ فروری کو گزر گیا ہے اوپر بیٹھے طاقتور یہ چاہتے تھے کہ میں گارنٹی دوں کہ اقتدار میں ا کر ان پر ہاتھ نہیں ڈالوں گامذاکرات تب ہوتے ہیں جب کسی مسئلے کا حل نکلے ہم شہباز شریف سے مذاکرات کریں گے ان کی حکومت چلی جائے گیپورا ملک کہہ رہا ہے کہ سب سے بڑا فراڈ الیکشن کروایا گیا لیکن چیف جسٹس فائز عیسی الیکشن کمیشن کی تعریف کر رہے ہیںجس الیکشن کمیشن نے ملک کا سب سے فراڈ الیکشن کرایا ہمیں انصاف کے لیے اسی کے پاس بھیجا جا رہا ہے اگر اس فراڈ الیکشن کی تحقیقات ہو جاتی ہیں تو چیف الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6لگ جائے گا۔
جیل والے پریشان ہیں کہ مجھے حمود الرحمن رپورٹ اڈیالہ جیل کے اندر کیسے مل گئی وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں ایک سال ہونیوالا ہے مجھے چکی میں ٹھہرایا ہوا ہے۔ سخت گرمی کے باوجود میں اس کی شکایت نہیں کروں گا۔ میں وقت کے یزید کی کبھی غلامی نہیں کروں گا، جیل میں مرنے کیلئے تیار ہوں جب تک زندہ ہوں میں یہ جنگ لڑوں گا۔ میں لا الہ الا اللہ کہنے والا بندہ ہوں، مریم نواز نواز شریف اور خواجہ اصف کے بیانات کی ویڈیوز موجود ہیں خیبر پختونخواہ حکومت کو کہوں گا کہ ان کی ویڈیوز نکال کر ان پر مقدمات درج کریں۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات مضبوط نہ ہونے تک ٹی ٹی پی سے جنگ نہیں جیت سکتے اپ طالبان کے خلاف اپریشن کریں گے وہ بھاگ کر افغانستان کے اندر چلے جائیں گے جب تک اپ کو افغانستان سے تعاون نہیں ملے گا اپ اس اپریشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے بلاول بھٹو اور ہمارا وزیر خارجہ افغانستان کیوں نہیں گیا ہم حکومت کی ال پارٹیز کانفرنس میں شرکت کریں گے یہ ملکی ایشو ہے اور ملک کی خاطر اس اے پی سی میں جائیں گے جب تک افغان حکومت ساتھ نہ دے 2500 کلومیٹر طویل بارڈر پر یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں ہمارے دور میں این ڈی ایس اور غنی حکومت اپس میں ملے تھے میں اس کے باوجود افغانستان گیا اور بات چیت کی


