Search
Close this search box.
اتوار ,05 جولائی ,2026ء

آئی ایم ایف کا پاکستانی حکومت سے زراعت پر ٹیکس نافذ کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان کو آئی ایم ایف سے معاہدے گلے پڑگئے ، عالمی مالیاتی فندکا پاکستانی حکومت سے مزید ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے زراعت پر بھی ٹیکس نافذ کر نے کی ہدایت جاری کردی جس کے بعد شہباز حکومت نے آئی ایم ایف کی ہدایت کے مطابق صوبوں میں بھی زراعت پر ٹیکس کو تسلیم کرلیا ۔

آئی ایم ایف ماہرین نے پاکستانی حکام سے مشکل ترین ورچوئل مذاکرات کئے،ہر صوبائی حکومت سے الگ مذاکرات کیے، ورچوئل مذاکرات میں وزارت خزانہ کے وفاقی اور صوبائی افسران شامل تھے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان سے زراعت پر انکم ٹیکس وصولی بہتر بنانے کا مطالبہ کیا، چاروں صوبوں نے زرعی انکم ٹیکس پر آئی ایم ایف کا مطالبہ مان لیا اور زرعی آمدن پر ٹیکس کی وصولی کا پلان مرتب کرنے کے لیے دو دن کا وقت مانگ لیا،

چاروں صوبائی حکومتیں 12 جولائی تک پلان جمع کرائیں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح سالانہ 6 لاکھ سے زائد آمدن پر عائد ہو گی، زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کے ریٹ بھی نارمل انکم ٹیکس کے حساب سے ہوں گے، زرعی آمدن پر وفاق اور صوبے ایک پیج پر آجائیں گے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ زرعی آمدن پر صوبوں نے آئی ایم ایف کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے خیبر پختونخوا حکومت نے بھی آئی ایم ایف سے مثبت مذاکرات کیے، آئی ایم ایف نے خیبر پختونخوا کے 100 ارب روپے سرپلس بجٹ کو سراہا۔
بھاری بجٹ کے بعد پاکستان میں تیل، گھی اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ

یہ بھی پڑھیں