لاہور(ویبڈیسک)مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انٹرسروسز انٹیلیجنس ایجنسی (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ جنرل (ر) فیض حمید پر سیاست میں مداخلت اور پاکستان تحریک انصاف کو فوائد پہنچانے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔
سیاستدانوں کی جانب سے یہ دعوے بھی کیے جاتے رہے ہیں کہ فیض حمید پارلیمان میں اہم قانون سازی کے دوران بھی پی ٹی آئی کو مطلوبہ تعداد فراہم کرنے میں مدد کرتے تھے۔
حال ہی پاک فوج نے سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کو نشانہ بنانے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی تحویل میں لیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ماضی کے طاقتور ترین فوجی عہدیدار کے خلاف کارروائی پر حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے ردِ عمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔
ایسے میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ماضی میں دیے گئے بیانات ایک مرتبہ پھر منظرِ عام پر آگئے جس میں انہوں نے جنرل (ر) فیض حمید پر الزامات لگائے تھے۔
مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس پر 3 سال قبل کی گئی ٹوئٹ میں مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ اپنی درخواست کا حوالہ دے کر کہا تھا کہمیڈیا نے ان وجوہات کی بنا پر جو ہر کسی کو معلوم ہے آج اسلام آباد ہائی کورٹ کو جمع کرائی گئی میری درخواست کے بنیادی موضوع کو اجاگر نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میری درخواست کا خلاصہ یہ ہے کہ میرے خلاف کیس/فیصلہ پہلے سے منصوبہ بند، ترتیب دیا گیا اور اس وقت کے ڈی جی سی جنرل فیض حمیدکے زیر اثر تھا۔

ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کس طرح جنرل فیض حمید کی حیثیت کے افراد نہ صرف اپنے حلف کے تقدس کو پامال کرتے ہیں بلکہ ایسا کرنے سے مسلح افواج کے قابل احترام ادارے کی بدنامی بھی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں انہیں ذاتی عزائم کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
مزیدپڑھیں :اداکارہ ریشم شادی کیلئے موزوں رشتے کی متلاشی

