لاہوراسلام آباد،پشاور،(نیوزڈیسک)ملک بھر میں بارشوں کے باعث چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں 13 افراد لقمہ اجل بن گئے، جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے۔ چک جھمرہ میں فیکٹری کی چھت گرگئی، جس کے نتیجے میں تین محنت کش جاں بحق ہوگئے اور ایک محنت کش زخمی ہوا جو الائیڈ اسپتال میں زیرعلاج ہے،۔تاندلیانوالہ میں بھی چھت بارش نہ برداشت کرسکی اور ملبے تلے دب کر خاتون جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوگئے۔لیاقت پور میں بارش سے کرنٹ لگنے کے دو واقعات میں خاتون ایک اور نوجوان چل بسا۔چنیوٹ میں بارش سے چھتیں گرنے کے تین واقعات میں چھ افراد زخمی ہوئے جنہیں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ڈجکوٹ کے علاقے میں کمرے کی خستہ حال چھت گرنے سے محنت کش کی تیس بکریاں ہلاک ہوگئیں۔لوئر دیر میں برساتی تالاب میں ڈوب کر دو بچے جاں بحق ہوگئے، جن کی لاشیں چکدرہ اسپتال منتقل کردی گئیں۔
صوابی میں برساتی نالے میں ویلج کونسل کے ساٹھ سالہ کونسلر فیاض خان ڈوب کر لقمہ اجل بن گئے، غوطہ خوروں نے لاش نکال کر لواحقین کے سپرد کردی۔ نالہ ڈیک میں نہاتے ہوئے 3 نوجوانوں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ نواحی گاؤں ننگل سودکاں کے رہائشی تین دوست جن کی عمریں 20سال کے قریب ہیں،نہاتے ہوئے جان کی بازی ہارگئے۔ تینوں دوست کلاس فیلو تھے۔
ریسکیو سیفٹی آفیسر کے مطابق لاشیں نکال لی گئیں، تینوں دوست ایک روز قبل بھی نہانے کے لئے نالہ ڈیک پر گئے تھے۔لاہور میں بھی بارش نے نظام زندگی درہم برہم کرکے رکھ دیا، ،بارش کے باعث سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ قذافی سٹیڈیم کے ارد گرد بھی پانی جمع ہونے سے ٹریفک کانظام مفلوج ہوکر رہ گیا جبکہ شہرکے مرکزی لاری اڈے میں بارش کا پانی جمع ہونے سے مسافروں کو شہر سے باہرجانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بارش سے شہر کے جنرل بس سٹینڈ میں سیوریج اور بارشی پانی جمع ہوگیا، سیوریج اور بارش کا پانی مل کر لاری اڈاتالاب کا منظر پیش کر رہا ہے،گندے پانی کی بدبو میں سانس لینا بھی محال ہو چکا۔ بارش کے باعث متعدد فیڈرز ٹرپ کرنے سے بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔
لاہور کے علاقوں گلبرگ، ڈیوس روڈ، گڑھی شاہو، ایبٹ روڈ، لکشمی چوک، جوہر ٹاؤن، اقبال ٹاؤن اور گردونواح میں موسلا دھار بارش ہوئی جبکہ شہر میں سب سے زیادہ 22 ملی میٹر بارش تاج پورہ میں ریکارڈ کی گئی، ایم سی ایل، واسا اور ایل ڈبلیو ایم سی کو الرٹ جاری کردیا گیا۔لاہور میں موسلا دھار بارش کے بعد متعدد فیڈر ٹرپ کر گئے جس سے کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہو گئی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح ایک فٹ رہ گئی، سپل ویز کھول دئیے گئے۔ڈیم میں پانی کی سطح 1549 فٹ ہوگئی، انتہائی سطح 1550 فٹ ہے، تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 57 لاکھ ایکڑ فٹ ہوگیا، 20 اگست تک تربیلا ڈیم 1 فٹ خالی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ارسا نے وافر پانی کی دستیابی کے باوجود ڈیم 1 فٹ خالی رکھنے پر واپڈا سے وضاحت طلب کر لی،، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 2 لاکھ 83 ہزار کیوسک ہے، تربیلا ڈیم کے سپل ویز کھلنے سے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے شہر گوجرانوالہ، جھنگ، گوجرہ، سانگلہ ہل اور ننکانہ صاحب میں بھی تیز بارش ہوئی جبکہ فیروز والا، مریدکے، احمد پور شرقیہ اور اوچ شریف میں بھی جل تھل ایک ہو گیا۔علاوہ ازیں بلوچستان کے متعدد اضلاع میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، خضدار، لورالائی، سبی، ژوب اور مسلم باغ میں موسلا دھار بارش نے رنگ جما دیا۔
زیارت، بارکھان، کوہلو، نصیر آباد، جھل مگسی اور جعفرآباد میں بھی کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب پی ڈی ایم اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ 2 سے 3 روز تک جاری رہ سکتا ہے، متعلقہ ادارے الرٹ رہیں۔ این ڈی ایم اے کے جاری کردہ الرٹ کے مطابق آئندہ 24-48 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان کا، پنجاب میں لاہور، سیالکوٹ، ناروال، موسلادھار بارشوں کیوجہ سے اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، دریائے چناب میں درمیانے سے اونچے درجے کا سیلابی ریلے متوقع، مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ جنوبی پنجاب کے اضلاع رحیم یار خان، بہاولپور اور ملتان میں بھی بارشیں اور اربن فلڈنگ کا امکان ہے، ڈی جی خان اور راجن پور میں ہل ٹورینٹ کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے علاقوں قلات، زریات، ڑوب، کوئٹہ میں موسلادھار بارشوں اور ہل ٹورینٹ کا خدشہ ہے، سندھ میں نواب شاہ اور سکھر میں چند مقامات پر اربن فلڈنگ ہو سکتی ہے خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں، مری، گلیات اورکشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت متاثر ہونے کا خطرہ ہے،آج اسلام آباد اور گرد و نواح میں تیز ہوائیں چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
پنجاب کے علاقے ملتان، وہاڑی، لودھراں، مظفر گڑھ، تونسہ، ڈی جی خان، راجن پور، رحیم یار خان، خانپور، بہاولپور، کوٹ ادو، مری، گلیات، راولپنڈی، اٹک، چکوال، تلہ گنگ، جہلم، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، میانوالی، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، چنیوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، قصور، اوکاڑہ، لاہور، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ، بھکر، خوشاب، نور پور تھل، ساہیوال، پاکپتن اور بہاولنگر میں تیز ہوائیں چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ جنوبی اضلاع میں چند مقامات پر موسلادھار بارش ہونے کا امکان ہے۔
خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقے چترال، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، بالاکوٹ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، نوشہرہ، صوابی، چارسدہ، مردان، پشاور، کرک، کوہاٹ، بنوں، مالاکنڈ، وزیرستان،کرم، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے
جنید اکبر فوکل پرسن سے ڈی نوٹیفائی ، تحریک انصاف میں رسہ کشی شروع، متعدد ایم پی اے ناراض


