Search
Close this search box.
جمعرات ,16 جولائی ,2026ء

الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم قرار،پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی حقدارہے،سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ کے اکثریتی ججز نے مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔70 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا جس میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کا ضامن اور حکومت کا چوتھا ستون ہے، عوام کی خواہش اور جمہوریت کے لیے شفاف انتخابات ضروری ہیںالیکشن کمیشن فروری 2024 میں اپنا یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہا،عوام کی خواہش اور جمہوریت کے لیے شفاف انتخابات ضروری ہیں،تحریک انصاف قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی حقدار ہے،الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کو نوٹیفائی کرے، عوام کا ووٹ جمہوری گورننس کا اہم جز ہے،آئین عوام کو اپنا جمہوری راستہ بنانے کا اختیار دیتا ہے، الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پرپی ٹی آئی کے امیدواروں کونوٹیفائی کرے .

الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے،بھاری دل سے بتاتے ہیں دو ساتھی ججز امین الدین اور جسٹس نعیم افغان نے ہمارے فیصلے سے اتفاق نہیں کیا،سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو ریلیف دینے پر وضاحت بھی کر دی،پی ٹی آئی کی کیس میں فریق بننے کی درخواست ہمارے سامنے موجود تھی،عمومی طور پر فریق بننے کی درخواست پر پہلے فیصلہ کیا جاتا ہے۔

8ججزنےتفصیلی فیصلےمیں2ججزکےاختلافی نوٹ پرتحفظات کااظہاربھی کیا،تفصیلی فیصلہ،جسٹس امین الدین اورجسٹس نعیم اخترافغان نے12جولائی کےفیصلےکوآئین سےمتصادم قراردیا۔

جس اندازمیں2ججزنےاکثریتی فیصلےپراختلاف کااظہارکیاوہ مناسب نہیں،ساتھی ججزدوسرےججزکی رائےپرکمنٹس دےسکتےہیں، رائےدینےکیلئےوہ وجوہات بھی دیں کہ دوسرےججزکی رائےمیں کیاغلط ہے۔۔یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ PTIجسےاس کیس میں ریلیف دیا گیا ہےہمارے سامنے ایک درخواست کےساتھ آئی ہےاسےاس کیس میں فریق کے طور پر شامل کیاجاسکےعامسول مقدمات کے طریقہ کارکےمطابق پہلے شامل کرنے کی درخواست کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

اردو ترجمہ کوکیس ریکارڈکاحصہ بنایاجائےاورویب سائٹ پربھی اپ لوڈکیاجائے۔پشاورہائیکورٹ کےمخصوص نشستوں سےمتعلق فیصلےکوکالعدم قراردیتےہیں۔الیکشن کمیشن کایکم مارچ کوفیصلہ آئین سےمتصادم ہے،الیکشن کمیشن کےیکم مارچ کےفیصلےکی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،الیکشن میں بڑااسٹیک عوام کاہوتاہے۔آئین یاقانون سیاسی جماعت کوانتخابات میں امیدوارکھڑےکرنےسےنہیں روکتا۔

پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے۔انتخابی نشان نہ دیناسیاسی جماعت کےانتخاب لڑنےکےقانونی وآئینی حق کومتاثرنہیں کرسکتا۔پی ٹی آئی نے2024کےانتخابات میں قومی وصوبائی اسمبلیوں کی نشستیں جیتیں،۔

الیکشن کمیشن نےپی ٹی آئی کے80 میں سے39 ایم این ایز کوپی ٹی آئی کاظاہرکیا،الیکشن کمیشن کوحکم دیاکہ باقی41 ایم این ایزکے15روز کےاندردستخط شدہ بیان لیں،عوام کی خواہش اورجمہوریت کےلیےشفاف انتخابات ضروری ہیں،۔انتخابی تنازع بنیادی طورپردیگرسول تنازعات سےمختلف ہوتاہے،یہ سمجھنےکی بہت کوشش کی کہ اتنے آزادامیدوارکیسےکامیاب ہوسکتےہیں،اس سوال کاکوئی تسلی بخش جواب نہیں دیاگیا،پی ٹی آئی کادعویٰ تھاکہ آزادامیدواربھی پی ٹی آئی کےامیدوارتھے،پی ٹی آئی کےمطابق ووٹرزنےان کےامیدوارہونے کی وجہ سےووٹ دیا،8ججزنےتفصیلی فیصلےمیں2ججزکےاختلافی نوٹ پرتحفظات کااظہاربھی کیا..

جسٹس امین الدین اورجسٹس نعیم اخترافغان نے12جولائی کےفیصلےکوآئین سےمتصادم قراردیا،جس اندازمیں2ججزنےاکثریتی فیصلےپراختلاف کااظہارکیاوہ مناسب نہیں،ساتھی ججزدوسرےججزکی رائےپرکمنٹس دےسکتےہیں،رائےدینےکیلئےوہ وجوہات بھی دیں کہ دوسرےججزکی رائےمیں کیاغلط ہے،جسٹس امین الدین اورجسٹس نعیم اخترافغان کاعمل سپریم کورٹ کےججزکےمنصب کےمنافی ہے،بھاری دل سےبتاتےہیں2ساتھی ججزنےہمارےفیصلےسےاتفاق نہیں کیا۔

بطوربینچ ممبران قانونی طورپرحقائق اورقانون سےاختلاف کرسکتےہیں،جس طریقےسےججزنےاختلاف کیاوہ سپریم کورٹ کےججزکےتحمل اورشائستگی سےکم ہے۔2ججزکایہ عمل عدالتی کارروائی اورفراہمی انصاف میں رکاوٹ ڈالنےکی کوشش ہے،۔دوممبرججزنےالیکشن کمیشن کوکہاسپریم کورٹ کےاکثریتی فیصلےکی تعمیل نہ کریں،2ججزنے80کامیاب امیدواروں کووارننگ دی۔پریشان کن بات یہ ہےکہ ججز اپنی رائےدیتےہوئےحدودسےتجاوزکرگئے۔

ایسی رائے ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کی سالمیت کونقصان پہنچاتی ہے۔جس طریقےسےدوججزنےاپنےفیصلےمیں لکھاوہ انہیں زیب نہیں دیتا۔الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کاضامن اورحکومت کاچوتھاستون ہے،الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پرپی ٹی آئی کےامیدواروں کونوٹیفائی کرے،پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی حقدارہے،آئین وقانون کسی شہری کوانتخاب لڑنےسےنہیں روکتا،عوام کی خواہش اورجمہوریت کیلئےشفاف انتخابات ضروری ہیں،آئین عوام کواپناجمہوری راستہ اپنانےکااختیاردیتاہے،عوام کاووٹ جمہوری گورننس کیلئےاہم ہے،پی ٹی آئی کی کیس میں فریق بننےکی درخواست ہمارےسامنےموجودتھی،عمومی طورپرفریق بننےکی درخواست پرپہلےفیصلہ کیاجاتاہے،متعددمقدمات میں کہہ چکےہیں انصاف میں عدالت کسی تکنیکی اصول کی پابندنہیں،

سپریم کورٹ کےتفصیلی فیصلےمیں الیکشن کمیشن کےرویےپربھی حیرانی کا اظہار،الیکشن کمیشن بنیادی فریق سےمخالف کےطورپرکیس لڑتارہا،الیکشن کمیشن ملک میں جمہوری عمل کاضامن اورحکومت کاچوتھاستون ہے،الیکشن کمیشن فروری2024 میں اپناکرداراداکرنے میں ناکام رہا

،انتخابات کےعمل میں تمام اتھارٹیزکوشفاف کاعمل اپناناچاہیے،انتخابی نشان نہ دیناسیاسی جماعت کےالیکشن لڑنےکےقانونی وآئینی حق کومتاثرنہیں کرتا،عوام کےپاس گورننس کرنےکااختیاران کےمنتخب کردہ امیدواران سےہے،عوام کاووٹ جمہوری گورننس کااہم جزوہے،جمہوریت کااختیارعوام کےپاس ہے،سپریم کورٹ اکثریتی ججزکاتفصیلی فیصلہ،مخصوص نشستوں سےمتعلق کیس کامختصرفیصلہ12جولائی کوسنایاگیاتھا
عالمی شہرت یافتہ بھارتی اداکارشاہ رخ خان کی تعلیم کتنی ہے؟ اہم انکشاف سامنے آگیا

یہ بھی پڑھیں