سوات (نیوز ڈیسک)سوات میں حالیہ دہشت گردی کے واقعے نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں، خاص طور پر جب یہ معلوم ہوا کہ چیمبر آف کامرس نے بغیر کسی سیکیورٹی کلیئرنس اور این او سی کے گیارہ ملکوں کے سفیروں کو سوات لے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، چیمبر نے متعلقہ اداروں سے کوئی اجازت نامہ بھی حاصل نہیں کیا۔
اس واقعے کے بعد، سیکیورٹی اداروں نے معاملے کو وزارت داخلہ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے اس معاملے پر ڈی آئی جی آپریشن علی رضا سے رپورٹ طلب کی ہے، جبکہ آئی جی کی جانب سے ڈی آئی جی سیکورٹی سے بھی تفصیلی رپورٹ مانگی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سوات میں سفارت کاروں کے قافلے میں شامل پولیس اسکارڈ کی گاڑی کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار برہان خان شہید ہوگئے۔ خوش قسمتی سے، تمام سفارتکار اس واقعے میں محفوظ رہے۔ذرائع کے مطابق، قافلے کی قیادت سیف الرحمان چیمبر آف کامرس کے نمائندے کر رہے تھے، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان کی انتظامات میں کوئی سیکیورٹی پروٹوکول نظر انداز کیا گیا۔
سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات اور قانونی اجازت نامے کا حصول نہایت ضروری ہے تاکہ ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے خطرات سے بچا جا سکے۔
مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کرنا ہوگا ،غلام نبی فائی


