Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

دنیا کے ٹاپ سائنسدانوں میں دوسری بار شامل پہلا پاکستانی کون؟

میڈرڈ(نیوز ڈیسک )اسپین کی قرطبہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے پاکستانی طالب علم اویس احمد ہرل نے مسلسل دوسری مرتبہ دنیا کے سرفہرست 2 فیصد سائنس دانوں میں جگہ بنالی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اویس احمد ہرل یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔

اویس احمد ہرل کا مختصر تعارف
فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے اویس احمد ہرل پی ایچ ڈی کے دوران یہ اعزاز حاصل کرنے والے واحد پاکستانی اسکالر ہیں۔
اپنے کیریئر میں وہ امپیکٹ فیکٹر ایک ہزار سے زائد کا ہدف حاصل کرنے والے 180 سے زائد ریسرچ پیپرز تحریر کرچکے ہیں۔

اویس احمد ہرل نے نینو ٹیکنالوجی کے میدان میں 9 سائنسی تحقیق پر مبنی کتابوں کی ادارت بھی کی۔

انہیں 2023 میں رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی رکنیت سے بھی نوازا گیا تھا، اس سے قبل 2021 میں انہوں نے سعودی کیمیکل سوسائٹی سے ‘ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ’ بھی حاصل کیا تھا۔

مزید برآں اویس احمد ہرل نے قومی اور بین الاقوامی جامعات میں لیکچرز بھی دیے ہیں، ان ممالک میں پاکستان کے علاوہ، بھارت، انگلینڈ، کوریا، ملائیشیا، اسپین، فرانس اور اٹلی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں اویس احمد ہرل فرانس اور اٹلی میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

‘ابھی مزید کام کرنا ہے’
نجی ٹی وی چینل ‘ایکسپریس نیوز’ کو خصوصی انٹرویو میں اویس احمد ہرل نے بتایا کہ والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی سرپرستی میں محنت کی، اسی وجہ سے یہ اعزاز ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا خواب 2023 میں پورا ہوا تھا جب پہلی مرتبہ یہ ایوارڈ ملا تھا لیکن ابھی مزید کام کرنا ہے۔

اویس احمد نے بتایا کہ 2015 میں بی ایس شروع کیا تھا اور 2017 میں کچھ منفرد کرنے کا سوچا اور اس وقت ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پر تجربہ کیا جو کامیاب ہوا۔

بیٹریز کے میٹریل بنانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں لوڈ شیڈنگ کے دوران سیلنگ فینز کے کیپسٹرز باربار تبدیل کرنے پڑتے تھے، اس سے میں نے نینو ٹیکنالوجی اپنانے کا آئیڈیا لیا، جب اس کا معیار زیادہ اچھا تھا تو اس کو مزید وسعت دی۔
مزیدپڑھیں :گلوکار روہن پریت سنگھ نے نیہا ککڑ سےطلاق کی افواہوں پرخاموشی توڑ دی

یہ بھی پڑھیں