Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

آئینی عدالت ترمیم کی منظوری کیلئے حکمت عملی تیار، بلاول وزیراعظم ، مولانا فضل الرحمن صدر ، شہبازشریف ، زرداری کی چھٹی

اسلام آباد(اوصاف نیوز ڈیسک) پاکستان میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر ملک میں مزید سیاسی انتشار سے بچنے کیلئے حکومتی سطح پر بڑی تبدیلی کا امکان ، اوصاف ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع کے ترمیمی بل کی پارلیمنٹ سے منظوری کیلئے اہم طاقتیں متحرک ہوچکی ہیں۔اس حوالے سے گزشہ کئی دنوں سے حکومت اور اس کے اتحادی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے بھی ملاقاتیں کرتے نظر آئے تاکہ ترامیم منظور کروانے میں ان کی حمایت حاصل کی جا سکے۔

یہ بات واضح ہے کہ حکمراں جماعت کے پاس ان ترامیم کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کروانے کیلئے عددی اکثریت موجود نہیں جس کیلئے مولانا فضل الرحمن کی حمایت ضروری ہے ۔خیال رہے کسی بھی آئینی ترمیم کو منظور کروانے کے لیے حکومت کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہے، یعنی قومی اسمبلی میں 224 اور سینیٹ میں 64 اراکین کی حمایت۔اس حوالے سے گزشتہ دنوں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا بیان بھی سامنے آچکا ہے کہ وہ ججز کے حوالے سے آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے آخری حد تک جائیں گے جس بعد حالات کا رخ تبدیل ہوچکا ہے ، اعلیٰ ترین حلقوں میں ججز کی مدت ملازمت اورآئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے حکمت عملی تیار ہوچکی ہے ۔

ذرائع کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری اپنا عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ہوچکے ہیں جبکہ موجودہ وزیراعظم شہبازشریف حکومت کے جانے کے دن قریب ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں حکومتی سطح پر اہم تبدیلیوں کا امکان ہے جس میں وزیراعظم شہبازشریف کی جگہ بلاول بھٹو زرداری کوپارلیمنٹ کے زریعے وزارت عظمیٰ کا ہما سرپربیٹھایا جانے کا امکان ہے ۔ اس کیلئے حکمت عملی طے پاچکی ہے ۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن کو آئینی ترمیم کی حمایت لینے کیلئے تجاویز طے کی جاچکی ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری بھی اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں ۔

ایسی صورتحال میں جب پاکستانی میں سیاسی رسہ کشی جاری ہے صدر آصف علی زرداری ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانے کیلئے سرگرم عمل ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کی موجودگی میں ہی بلاول وزیراعظم بن سکتا ہے ان کے جانے کے بعد بلاول کے وزیراعظم بننے کے کوئی چانسز نہیں ہیں اور اس کیلئے مولانا فضل الرحمن کو صدارت کی آفر دے کر ہی بلاول کو وزارت عظمیٰ تک پہنچایا جاسکتا ہے

ایسے حالات میں مولانا فضل الرحمن کی حمایت کے بغیر نہ ہی آئینی عدالت کے ترمیم کی منظوری ہوسکتی ہے اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم بن سکتے ہیں۔جس کے بعد اعلیٰ سطح پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو صدارت اور شہبازشریف کی جگہ بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بنانے کا پلان تیار کیا جاچکا ہے.
راولپنڈی ،تحریک انصاف کااحتجاج، سڑکیں بلاک ، ٹرانسپورٹ بند، میٹرو سروس معطل

یہ بھی پڑھیں