اسلام آباد (نیوزڈیسک): سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی سماعت کے دوران جسٹس منیب اختر کی بینچ میں شمولیت سے انکار کی خبر دی ہے۔ جسٹس منیب اختر کمرہ عدالت میں حاضر نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے کیس کی سماعت میں 25 منٹ کی تاخیر ہوئی۔ کمرہ عدالت نمبر ایک میں ان کی نشست خالی رہی۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم جسٹس منیب اختر کو کل تک کا وقت دیتے ہیں، اگر وہ بینچ میں شامل نہیں ہوتے تو نیا بینچ تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ایک خط موصول ہوا ہے جس میں جسٹس منیب نے کہا ہے کہ وہ بینچ میں شامل نہیں ہو سکتے، حالانکہ قانون کا تقاضا ہے کہ نظرثانی کی سماعت وہی بینچ کرے جو ابتدائی کیس کی سماعت کر چکا ہو۔
سابق چیف جسٹس کی جگہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کی جگہ جسٹس امین الدین کو شامل کیا گیا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے خط میں واضح کیا ہے کہ وہ آج کیس میں شامل نہیں ہو سکتے اور انہوں نے درخواست کی کہ ان کا خط نظرثانی کیس کے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ایک اہم آئینی معاملہ ہے جو حکومتی معاملات کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے خطوط کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانا روایت نہیں ہے۔ اگرچہ جسٹس منیب اختر کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے، لیکن یہ مناسب ہوتا کہ وہ بینچ میں آ کر اپنی رائے دیتے۔ سماعت کا اگلا مرحلہ کل ہوگا، جہاں عدالت مزید کارروائی کرے گی۔ جسٹس قاضی فائز نے اس بات پر زور دیا کہ نظرثانی کیس دو سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہے، اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہوں گے۔
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کاایم ایم عالم روڈ کی دوبارہ تعمیر کا منصوبہ تیار


