Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

جمخانہ کلب کی لیز پر تنازعہ، بحث شدت اختیار کر گئی ، رینٹ و تاوان کے مطالبات

اسلام آباد: جمخانہ کلب کی لیز کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ پیر اشرف رسول نے مطالبہ کیا ہے کہ جمخانہ کلب کا کرایہ وصول کرتے وقت تاوان بھی شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ممبر شپ کی پیشکش ہوئی تھی، لیکن انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔حکومتی رکن رانا عبدالمنان نے کہا کہ پنجاب میں کسی بھی دوکان کا کرایہ پیپرا رولز کے مطابق چڑھتا ہے، جبکہ انہوں نے الزام لگایا کہ اربوں روپے کی زمین کرایہ پر دی گئی، مگر کوئی قانونی تقاضے نہیں دیکھے گئے۔

ذوالفقار علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ اب یہ ذمہ داری ان کی بنتی ہے کہ جمخانہ کی لیز کو دیکھا جائے تاکہ کوئی قانونی مسئلہ نہ بنے۔

علی حیدر گیلانی نے سوال اٹھایا کہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق جمخانہ کلب کا کتنا کرایہ بنتا ہے، جس پر بحث جاری رہی۔

اپوزیشن رکن رانا شہباز نے کہا کہ جمخانہ میں بریگیڈیئر اور جنرلز تعینات ہیں، اور اس زمین کی مالیت 40 کھرب روپے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس زمین کا حساب دینا پڑے گا۔

حکومتی رکن امجد علی جاوید نے تجویز دی کہ نہ صرف تاوان لیا جائے بلکہ سابقہ فیس بھی وصول کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ جمخانہ کی عمارتیں گرا دی جائیں، بلکہ ان کا کہنا ہے کہ تاوان سود کے ساتھ وصول کیا جائے۔

یہ معاملہ ایک نئے تنازع کی شکل اختیار کر رہا ہے، جس پر مزید بحث اور قانونی کارروائی کی توقع کی جا رہی ہے۔

ججز کی سختی آگئی ،نوکری سے فارغ، نوٹیفکیشن بھی جاری

یہ بھی پڑھیں