لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ایک بھارتی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہت جلد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی امید رکھتے ہیں۔ معروف بھارتی صحافی برکھا دت کو لاہور میں دیے گئے انٹرویو میں نواز شریف نے اپنی ماضی کی غلطیوں کا بھی ذکر کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے۔
غلطیوں کا اعتراف اور مستقبل کی امید
برکھا دت کے مطابق نواز شریف نے اپنی غلطیوں کو تسلیم کیا اور کہا کہ جلد دونوں ممالک کے رہنما مل بیٹھ کر مسائل حل کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ سے بہتر ہونے چاہیے تھے اور وہ اس کے مستقل حامی رہے ہیں۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر نریندر مودی بھی پاکستان آئیں تو یہ دونوں ممالک کے لیے ایک مثبت قدم ہوگا۔
لاہور ڈیکلریشن اور تعلقات کی بحالی
انٹرویو میں نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ سے بھی سوال کیا کہ کیا وہ تسلیم کرتی ہے کہ لاہور ڈیکلریشن کی خلاف ورزی ہوئی؟ انہوں نے کہا کہ تعلقات کی بحالی کے لیے دونوں ممالک کو مل بیٹھنا ہوگا اور جلد ہی ایسا موقع آئے گا۔ نواز شریف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارتی وزیراعظم اگر شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شریک ہوتے تو بہتر ہوتا۔
بھارتی صحافی برکھا دت کا تجزیہ
برکھا دت نے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات اس وقت بہتر نہیں ہیں، تجارت بند ہے اور ہائی کمشنرز کو باہمی مواقع نہیں مل رہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایک وقت تھا جب واہگہ اٹاری سرحد سے 500 ٹرک گزرتے تھے، جو اب رک چکے ہیں۔ تاہم، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا پاکستان آنا ایک بڑی پیش رفت ہے، اور یہ تعلقات میں بہتری کی علامت ہو سکتی ہے۔
مودی کی حکومت اور نواز شریف کا پیغام
برکھا دت نے مزید بتایا کہ جب نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا تھا تو نواز شریف نے انہیں مبارکباد دی تھی، جس کا مودی نے مثبت جواب دیا تھا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپنے عوام کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا تھا۔ نواز شریف نے اس انٹرویو میں امید ظاہر کی کہ جلد دوطرفہ تعلقات بحال ہوں گے اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے ایک نیا باب کھلے گا۔
تعلقات میں بہتری کی امید
نواز شریف نے انٹرویو میں بارہا اس بات پر زور دیا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان ملاقاتیں اور بات چیت بحال ہو جائیں تو بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کا پاکستان آنا اور دونوں ممالک کے رہنماؤں کا مل کر بات کرنا ایک بڑا قدم ہوگا جس سے دونوں ممالک کے درمیان مسائل کا حل نکالا جا سکے گا۔
مزیدپڑھیں :اداکارہ زارا نور عباس کے گھر بھی شہنائیاں بجنے لگیں

