لاہور (نیوز ڈیسک) معروف فوڈ برانڈ K&N’s کی فروزن مصنوعات طویل عرصے سے پاکستانی صارفین میں مقبول رہی ہیں، تاہم حالیہ تحقیق اور ماہرین صحت کی آراء نے ان مصنوعات کے استعمال پر سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق فروزن فوڈز میں شامل کیمیکل، نمکیات اور پریزرویٹوز انسانی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان کھانوں کے مسلسل استعمال سے ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، شوگر اور دیگر مہلک بیماریاں لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فروزن کھانوں کی تیاری کے دوران کئی اہم وٹامنز اور غذائی اجزاء ضائع ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی غذائیت کم ہو جاتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ K\&N’s کی مصنوعات میں سوڈیم کی مقدار زیادہ پائی گئی ہے جو بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ صارفین کی شکایات کے مطابق فروزن کھانوں کے باقاعدہ استعمال سے طبی مسائل پیدا ہوئے، اور کئی افراد کو ڈاکٹروں نے ان سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا۔
ٹرانس فیٹس کی موجودگی، جو دل کی بیماریوں میں معاون ثابت ہوتی ہے، ان مصنوعات میں تشویش کی ایک اور وجہ بنی ہے۔ اگر فروزن کھانوں کو مناسب طریقے سے محفوظ یا پکایا نہ جائے تو ان میں بیکٹریا پیدا ہو سکتے ہیں جو فوڈ پوائزننگ یا سنگین صحت کے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، ماحولیاتی ماہرین نے بھی ان مصنوعات کے مضر اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فروزن فوڈز کی تیاری اور پیکنگ میں زیادہ توانائی اور پلاسٹک کا استعمال ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے، جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔
عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ یورپی یونین اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک میں بعض فروزن مصنوعات پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ ان ممالک نے مخصوص کیمیکلز اور اجزاء کی بنیاد پر ان مصنوعات کی فروخت کو محدود کیا ہے۔
ماہرین غذائیت نے خبردار کیا ہے کہ صارفین فروزن کھانوں کے بجائے تازہ، قدرتی اور غیر پروسیس شدہ غذاؤں کو اپنی روزمرہ خوراک میں شامل کریں تاکہ صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیا جا سکے۔ مارکیٹنگ کے ذریعے عوام کو راغب کیا جاتا ہے، مگر ان سہولتی مصنوعات کے پیچھے ممکنہ خطرات سے آنکھیں بند کرنا صحت کے ساتھ ناانصافی ہے۔



