اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں سے اختیارات واپس لینے، معدنی وسائل پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور گوادر کو وفاقی علاقہ قرار دینے کی اطلاعات پر سیاسی جماعتوں، خصوصاً جمیعت علماء اسلام (ف) کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
جے یو آئی (ف) کے رہنماحافظ حمداللہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر اس ترمیم کے ذریعے 18ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ نہ صرف صوبائی خودمختاری پر حملہ ہوگا بلکہ آئین 1973 کی روح کو بھی مسخ کرنے کے مترادف ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت مجوزہ ترمیم کے ذریعے ملک کے معدنی ذخائر اور قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ایسی فورس بنانے کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے جو وفاق کے زیر انتظام ہوگی اور صوبوں کی اجازت کے بغیر کہیں بھی تعینات کی جا سکے گی۔
حافظ حمداللہ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کسی بھی صوبے میں، بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں، معدنیات سے متعلق فیصلے وفاقی سطح پر ہوں اور بین الاقوامی معاہدوں میں صوبوں کو شامل نہ کیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گوادر کو وفاقی علاقہ بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جو صوبائی خودمختاری پر ایک اور کاری ضرب ہوگی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 27ویں ترمیم اسی شکل میں لائی گئی جس کا تذکرہ موجود ہے، تو جے یو آئی (ف) اس کی بھرپور مزاحمت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے منظور کی گئی تھی، جس کے تحت صوبوں کو کچھ حد تک خودمختاری دی گئی، اور اب ان اختیارات کو واپس لینا پارلیمانی جمہوریت اور آئینی اصولوں کی نفی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جیسی جماعتیں، جنہوں نے 18ویں ترمیم کے لیے کردار ادا کیا، کیا اب وہی جماعتیں اسے ختم کرنے کے لیے کردار ادا کریں گی؟ اگر ایسا ہوا تو یہ ان جماعتوں کے اپنے نظریاتی مؤقف سے انحراف ہوگا۔
حافظ حمداللہ نے یہ بھی کہا کہ 2024 کے عام انتخابات میں جو بے ضابطگیاں اور دھاندلی ہوئی، اسے ان جماعتوں نے تسلیم کیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ اقتدار کے حصول کے لیے کسی بھی سطح تک جا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ملک میں پارلیمان کی بالادستی نہیں بلکہ خوف اور جبر کی سیاست مسلط ہے، اور اگر آئین کو بچانا ہے تو یہ ان سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے جنہوں نے اس آئین کے لیے قربانیاں دی ہیں۔





