اسلام آباد( نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی نے آرمڈ فورسز یا سول آرمڈ فورسز کو 3 ماہ کے لیے مشکوک شخص کو گرفتار کرنے کے اختیارات دینے کا بل منظور کرلیا۔
نجی میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2024 کی شق وار منظوری دے دی گئی، بل کو قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں سید نوید قمر کی متعارف کرائی گئی ترامیم کو کثرتِ رائے سے منظور کیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کی مخالفت کردی، قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قانون سازی سے پاکستان کے ہرشہری کو مجرم قرار دے دیا گیا، حکومت جب چاہے بغیر پوچھے کسی کو بھی گرفتار کرسکتی ہے، اس شخص کو اپنی بےگناہی خود ثابت کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر شہری اس وقت مجرم ہے، حکومت یا ادارے کسی بھی وقت کسی بھی شہری کو گرفتار کر سکیں گے، ہم اس بل کی حمایت نہیں کرتے۔
مزید پڑھیں:قومی اسمبلی ،فورسز کو مشکوک شخص کی گرفتاری کا اختیار دینے کا بل منظور


