Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

خطرے کی گھنٹی بج گئی

کراچی(نیوز ڈیسک) بہت بڑے یقینی سیلاب کے سنگین خطرے کی گھنٹی بج گئی۔

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ 6 ستمبر کو کسی وقت گڈو بیراج پر انتہائی اونچےدرجے کاریلا پہنچےگا۔

کراچی میں پریس بریفنگ کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہے کہ گدو بیراج تک ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ کتنا پانی آئے گا۔

این ڈی ایم اے نے کہاہےکہ 8 لاکھ کیوسک سے 11 لاکھ کیوسک پانی سندھ میں داخل ہوگا جب کہ 9 لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی آنے کو سپر فلڈ کی کیٹیگری میں رکھا جاتاہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے بیراج اور بند محفوظ رکھنے ہیں۔ اس طرح کے بہت زیادہ دباؤ والےسیلاب میں بند لیک ہو جاتے ہیں تاہم محکمہ انہار کے اہلکار پُراعتماد ہیں کہ پانی کو تمام بیراجوں سے گزار لیں گے۔ ساڑھے 5 لاکھ کیوسک پانی ہم چند روز پہلے گڈو بیراج سے گزار چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ گڈو بیراج اور سکھر بیراج کا جائزہ لیا ہے۔ رائٹ بینک پر جوبند ہیں، ان میں 5 یا 6 پوائنٹس پر بریچ ہونے کا خدشہ ہے۔ لیفٹ بینک پر شینک بند تشویشناک صورتحال میں ہے۔ 5 سے 7 لاکھ کیوسک پانی آنے سے کتنےگاؤں متاثر ہوں گے، اس کا ہمارے پاس ڈیٹا موجود ہے جسے انتظام کرنے کے لئے کام میں لائیں گے۔۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ہم نے 9 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کو سنبھالنے کی تیاری کررکھی ہے، پاکستان آرمی اور نیوی سے مدد مانگی ہوئی ہے۔ نیوی کی کشتیاں بھی موجود ہیں۔ محکمہ ہیلتھ کے الہکاروں کو وہاں پر تعینات کردیا ہے جہاں سیلاب آنے والا ہے اور امدادی کیمپس پہلے ہی لگے ہوئے ہیں۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ ٹھیک ٹھیک 4 ستمبر کی صبح معلوم ہوگا کہ پنجند پر کتنا پانی پہنچا ہے جب کہ 6 ستمبر کو کسی وقت گڈو بیراج پر انتہائی اونچےدرجے کاریلا ہوگا۔
مزیدپڑھیں:ڈیجیٹل میڈیا، وی لاگرز اور انفلوئنسرز کے خوشخبری

یہ بھی پڑھیں