Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

پی آئی اے کی انتظامی غفلت، 40 ارب روپے کے اثاثے غیر یقینی کا شکار

اسلام آباد (انوار عباسی)قومی ایئرلائن پی آئی اے کی انتظامی غفلت کے باعث اربوں روپے کے قیمتی اثاثے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق جہازوں کے انجنز، اے پی یوز (Auxiliary Power Units) اور لینڈنگ گئیرز کی واپسی میں تاخیر سے 40 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2022 تک مرمت کے لیے بھیجے گئے 12 انجن تاحال واپس نہیں آ سکے جبکہ 2020 میں بیرونِ ملک بھیجے گئے 3 اے پی یوز بھی واپس نہ ہو سکے۔ اسی طرح 2021 میں ارسال کیے گئے 3 لینڈنگ گئیرز کی واپسی میں بھی غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔

معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پی آئی اے کو صرف 5 انجنز کی مد میں 5.96 ارب روپے کا غیر ضروری لیز رینٹل خرچ برداشت کرنا پڑا۔ آڈٹ حکام نے پی آئی اے کی جانب سے مالی مشکلات کا مؤقف ناقابلِ قبول قرار دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی سطح پر بارہا یاد دہانیاں کرائی گئیں، تاہم پی آئی اے انتظامیہ نے معاملے کے حل کے لیے کوئی اجلاس طلب نہیں کیا، جس کے باعث قومی خزانے پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ: بھارت نے پاکستان کو 88 رنز سے شکست دے دی

یہ بھی پڑھیں