Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

پنجاب میں ٹریفک قوانین کی بڑی خلاف ورزیاں، فینسی نمبر، پلیٹس کالے شیشوں والی کتنی گاڑیاں پکڑی گئیں؟

لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب میں گزشتہ چند سالوں سے بڑھتے ہوئے جرائم، اغوا برائے تاوان، کار جیکینگ اور دہشتگردی کے واقعات اور وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران سکیورٹی خطرات کے پیش نظر صوبائی حکومت اور پولیس نے سنہ 2024 سے غیر قانونی اور فینسی نمبر پلیٹوں نیز کالے شیشوں کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔

پنجاب پولیس کے مطابق فینسی نمبر پلیٹس اور کالے شیشوں کا استعمال زیادہ تر جرائم پیشہ عناصر، اغوا کار گروہ اور دہشت گرد کرتے تھے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی شناخت ممکن نہیں ہو پاتی تھی۔

اسی تناظر میں چیف منسٹر پنجاب مریم نواز نے سنہ 2024 کے آخر میں ٹریفک پولیس اور سٹی ٹریفک افسران کو ہدف دے دیا تھا کہ سنہ 2025 میں صوبے سے غیر قانونی نمبر پلیٹیں اور کالے شیشے مکمل طور پر ختم کیے جائیں۔

اسی ہدف کے تحت رواں سال جنوری سے اکتوبر 2025 تک پنجاب بھر میں ٹریفک قوانین کی اب تک کی سب سے بڑی مہم چلائی گئی۔

نجی خبررساں ادارےو موصول ہونے والی سرکاری رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 7 لاکھ 94 ہزار سے زائد گاڑیوں پر غیر قانونی، فینسی یا نقلی نمبر پلیٹس لگانے کے چالان کیے گئے جن پر 20 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد ہوا۔

اسی دوران کالے شیشوں کے خلاف بھی صوبہ بھر میں سخت کارروائی کی گئی اور 2 لاکھ 2 ہزار سے زائد گاڑیوں کے چالان کیے گئے جن پر مجموعی طور پر 10 کروڑ 14 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ وصول کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ مہم نہ صرف ٹریفک قوانین کی پاسداری یقینی بنانے بلکہ جرائم کی روک تھام کے لیے بھی چلائی جا رہی ہے کیونکہ کالے شیشے اور غیر قانونی نمبر پلیٹیں اکثر جرائم پیشہ عناصر استعمال کرتے ہیں۔

شہروں کے اعتبار سے لاہور ایک بار پھر سب سے آگے رہا جہاں 3 لاکھ سے زائد غیر قانونی نمبر پلیٹس اور 64 ہزار سے زائد کالے شیشوں کے چالان ہوئے۔

فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان بھی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سرفہرست رہے۔ رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ میں 41 ہزار، فیصل آباد میں 33 ہزار اور ملتان میں 30 ہزار سے زائد غیر قانونی نمبر پلیٹس پکڑی گئیں جبکہ راولپنڈی میں 98 ہزار، سیالکوٹ میں 25 ہزار، سرگودھا اور اوکاڑہ میں 21، 21 ہزار چالان کیے گئے۔

کالے شیشوں کے کیسز میں بھی فیصل آباد 23 ہزار سے زائد چالانوں اور ایک کروڑ 16 لاکھ روپے سے زیادہ جرمانے کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ ملتان میں 13 ہزار سے زائد چالان اور 67 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا۔

ٹریفک پولیس حکام نے بتایا کہ یہ مہم ابھی جاری ہے اور آئندہ دنوں میں مزید سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ شہری ٹریفک قوانین کی پابندی کریں اور سڑکوں پر امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے۔
مزید پڑھیں: مس یونیورس مقابلے میں جمیکا کی حسینہ حادثے کا شکار

یہ بھی پڑھیں