Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پی ٹی آئی قیادت نے داخلی اختلافات کو نہ سنبھالا تو پارٹی کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے،شیرافضل مروت

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ پاکستان میں ہم آہستہ آہستہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں، انتظامیہ اور دیگر ریاستی ادارے عوام کے خلاف کھڑے نظر آتے ہیں، جو ایک تشویشناک رجحان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے اور ایک منصفانہ، آئینی حل کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں جمہوری اصول مضبوط ہو سکیں۔

اے بی این نیوز کے پروگرام ڈی بیٹ ایٹ 8 میں شیرافضل مروت نے عمران خان کے کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈھائی سال گزرنے کے باوجود عمران خان کسی ایک جرم میں بھی سزا یافتہ ثابت نہیں ہوئے اور متعدد مقدمات میں بری ہو چکے ہیں، اس کے باوجود وہ اور ان کی اہلیہ قید میں ہیں جبکہ پارٹی کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پارٹی کے رکن نہیں بلکہ ایک وکیل ہیں، تاہم عمران خان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔

شیر افضل مروت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تحریک انصاف اس وقت اندرونی انتشار کا شکار ہے اور قیادت کی جانب سے کیے گئے بعض فیصلوں نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عمران خان نے پارٹی کو مختلف دھڑوں کے ساتھ متوازن انداز میں چلایا، مگر حالیہ برسوں میں اس حکمت عملی سے ہٹنے کے باعث پارٹی کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان اور رہنماؤں کو غدار قرار دینا اور سخت زبان استعمال کرنا قربانیاں دینے والے لوگوں کے حوصلے پست کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے کارکنان اور رہنما جیلیں کاٹ چکے ہیں، تشدد برداشت کر چکے ہیں اور بے مثال قربانیاں دی ہیں، اس لیے قیادت کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کو ساتھ لے کر چلے، نہ کہ معمولی اختلافات پر انہیں الگ تھلگ کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاداریاں مشکل سے بنتی ہیں اور انہیں قائم رکھنے کے لیے تدبر اور برداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔

آخر میں شیر افضل مروت نے کہا کہ اگر قیادت نے داخلی اختلافات کو نہ سنبھالا تو پارٹی کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ تمام سیاسی قوتیں مل بیٹھ کر جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے مشترکہ راستہ اختیار کریں تاکہ پاکستان ایک بار پھر سیاسی استحکام کی جانب بڑھ سکے۔
مزیدپڑھیں:تحریک انصاف کی 23رکنی سیاسی کمیٹی کی تشکیل نو کرد ی گئی ،علی امین گنڈاپور شامل نہیں، نوٹیفکیشن جاری

یہ بھی پڑھیں