لاہور (نیوز ڈیسک) وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر 26 نومبر 2024 کو حملہ نہ کیا جاتا تو شہباز شریف کی تقریر تیار ہو چکی تھی، الیکشن کا اعلان کرنا تھا۔
ایک تقریب سے خطاب میں رانا ثنا اللہ نے عمران خان اور پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی تنصیبات پر حملہ بڑا جرم ہے، لڑائی، جھگڑے اور فساد سے کوئی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی، 9 مئی کو سازش کے تحت جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔
رانا ثںا اللہ نے کہا کہ عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں میں فتنہ فساد پھیلانے کی سازش کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی کیونکہ مسائل کا حل مذاکرات اور مکالمے سے ہی ممکن ہے لیکن پی ٹی آئی مذاکرات کے بجائے تصادم کی سیاست پر بضد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خانم نے جو گفتگو کی وہ درست تھی؟ سیاسی عدم استحکام اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی جماعتیں تصادم کا راستہ اختیار کریں، بتایا جائے کون مکالمے کے بجائے تصادم پر بضد ہے؟
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے یہ بھی کہا کہ عمران خان جب وزیر اعظم بنے تو شہباز شریف نے میثاق معیشت کی بات کی تھی لیکن بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا تم این آر او مانگتے ہو، شہباز شریف نے 14 اگست کی مرکزی تقریب میں بھی کہا تھا کہ آئیں میثاق استحکام پاکستان کریں۔
مزیدپڑھیں:سوچنے ،سمجھنے کا وقت ہے، آج کی اپوزیشن کل حکومت میں ہوگی، شاہد خاقان


