لاہور (نیوز ڈیسک) حکومتِ پنجاب نے پیر کے روز لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ صوبے میں ہونے والے آئندہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر منعقد کیے جائیں گے۔؎
یہ بات پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ رکن اسمبلی شیخ امتیاز اور دیگر کی جانب سے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کو بتائی گئی۔
سماعت کے دوران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ لوکل گورنمنٹ کے سیکریٹری کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق کوئی بھی سیاسی جماعت بلدیاتی انتخابات میں اپنے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی اجازت دے سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے قانون کی دفعہ 55 کسی بھی سیاسی جماعت کو دیگر جماعتوں کے مقابلے میں نقصان میں نہیں ڈالتی۔
اس موقعے پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر احمد نے سوال کیا کہ کیا اس وضاحت کے بعد درخواست گزاروں کا اعتراض دور ہو گیا ہے کیونکہ حکومت خود یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ اس پر درخواست گزاروں کے وکلا نے کہا کہ اس حد تک ان کا خدشہ دور ہو گیا ہے اور انہوں نے حکومت کے جواب کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست کی۔
عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل (قانون) خرم شہزاد کا بیان بھی سنا جنہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 4 برسوں میں ای سی پی نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے حکومت کو تقریباً 80 خطوط لکھے اور جو بھی قانون حکومت بنائے گی اس کے تحت انتخابات کرائے جائیں گے۔
ای سی پی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے انتخابات کی تیاری کے لیے 10 جنوری کی ڈیڈ لائن دی تھی۔
جسٹس سلطان تنویر احمد نے سوال اٹھایا کہ ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کی جانب سے تاحال باقاعدہ جواب کیوں جمع نہیں کرایا گیا اور ہدایت کی کہ منگل تک جواب جمع کرایا جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ متنازع قانون کی بعض شقیں بظاہر آئین سے متصادم دکھائی دیتی ہیں اور اس معاملے کا فیصلہ فوری طور پر ہونا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر میں الیکشن کمیشن نے 2022 کے قانون کے تحت دسمبر کے آخری ہفتے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا تاہم ای سی پی کے سخت مؤقف کے بعد حکومت پنجاب نے صرف 5 دن میں نیا پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 پنجاب اسمبلی سے منظور کرا لیا۔ اس پیش رفت کے بعد پی ٹی آئی کے ارکان نے پارٹی وکلا سے مشاورت کر کے نئے قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ سنہ 2019 میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی ادارے تحلیل کر دیے تھے جنہیں بعد ازاں سپریم کورٹ نے بحال کیا۔
یہ ادارے 31 دسمبر 2021 کو اپنی مدت پوری کر چکے تھے جس کے بعد اپریل 2022 تک انتخابات ہونا لازم تھے۔ آئین کے آرٹیکل 140-اے اور الیکشن ایکٹ کی شق 219(4) کے تحت الیکشن کمیشن بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانے کا پابند ہے۔
مزیدپڑھیں:شہزادی ڈیانا کی روایت جاری رکھتے ہوئے پرنس ولیم کی کرسمس پر بےگھر افراد سے ملاقاتیں




