اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ایک مثبت پیش رفت ہیں، تاہم ابھی تک مذاکرات کا کوئی واضح ایجنڈا سامنے نہیں آیا، جس کی بنیاد پر یہ طے کیا جا سکے کہ ان کا نتیجہ مثبت ہوگا یا منفی۔
اے بی این نیوزکے پروگرام تجزیہ میں گفتگو کرتے ہوئے محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ مذاکرات حقیقی معنوں میں ہوں اور ان کے نتیجے میں ایسی قرارداد سامنے آئے جو تمام فریقین کے لیے روشن مستقبل کی ضمانت بنے۔ انہوں نے حکومت اور ٹی ٹی اے کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ اگر کسی فریق کو نظر انداز کر کے مذاکرات آگے بڑھائے گئے تو نہ عوام اور پارٹی کارکنان اسے قبول کریں گے اور نہ ہی بنی کا خاندان۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب بھی سنجیدہ مذاکرات ہوئے، تو جیل میں موجود قیادت کو مذاکرات کی میز پر لایا گیا، جیسا کہ بھٹو دور اور پی این اے تحریک میں ہوا۔ مگر موجودہ صورتحال میں بعض رہنماؤں کو یہ کہہ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ وہ جیل میں ہی رہیں، اور ان کی رہائی پر بات نہیں ہوگی، جو ایک غیر مؤثر طریقہ ہے۔
محمد علی درانی نے مزید کہا کہ محض قانونی اصلاحات یا ترامیم پر بات کافی نہیں، عوام موجودہ دور کی ناانصافیوں اور جبر سے حقیقی نجات چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات صرف بات چیت یا وقت گزاری کا ذریعہ نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان سے ٹھوس نتائج سامنے آنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کی فضا اسی وقت قائم ہو سکتی ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے کے تحفظات سنیں اور عملی حل کی طرف بڑھیں۔ انتخابات، الیکشن کمیشن کی ذمہ داریاں اور قانون کی بالادستی جیسے نکات مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہونے چاہئیں۔
آخر میں محمد علی درانی نے کہا کہ مذاکرات کسی پر احسان نہیں بلکہ ملک کے سیاسی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں، اور ان کی کامیابی کا انحصار نیت، شفافیت اور تمام متعلقہ فریقوں کی شمولیت پر ہے۔
مزیدپڑھیں:طلاق ۔طلاق۔ طلاق ۔جہاز کے کپتان نے اپنے گھر کا شپ غرق کر دیا


