Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

طلاق ۔طلاق۔ طلاق ۔جہاز کے کپتان نے اپنے گھر کا شپ غرق کر دیا

نئی دہلی(ویب ڈیسک) حالیہ چند برسوں کے دوران بھارت میں طلاق کے معاملات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ معمولی باتوں پر میاں بیوی کے الگ ہونے کے واقعات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ایسی ہی ایک مثال بھارتی ریاست مہارشٹرا کے شہر پونے سے سامنے آئی ہے، جہاں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ جوڑے نے محبت کی شادی کی تھی، اور پھر ایک معمولی بات پر محبت کرنیوالے جوڑے نے باہمی رضامندی سے طلاق لے لی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت میں گزشتہ چند برسوں میں طلاق کے معاملات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ معمولی باتوں پر میاں بیوی کے الگ ہونے کے واقعات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال پونے سے سامنے آئی ہے، جہاں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ جوڑے نے محبت کی شادی کی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی پسند اور ناپسند سے پہلے ہی واقف تھے، اسلئے امید تھی کہ ازدواجی زندگی خوشگوار رہے گی۔ لیکن اس کے برعکس شادی کے اگلے ہی دن دونوں کے درمیان تنازع شروع ہو گیا اور وہ الگ الگ رہنے لگے۔ آخرکار صرف8 دنوں کے اندر اس جوڑے کو طلاق مل گئی۔

فیملی کورٹ کے جج بی ڈی کدم نے یہ فیصلہ سنایا۔ طلاق لینے والے دونوں افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔شوہر بحری جہاز (شپ) پر کام کرتا ہے جبکہ بیوی ڈاکٹر ہے۔ دونوں 3 دسمبر کو فیملی کورٹ میں باہمی رضامندی سے طلاق کی درخواست دائر کی تھی، جسے 10 دسمبر کو منظور کر لیا گیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق، اگر میاں بیوی 18 ماہ سے زیادہ عرصے سے الگ رہ رہے ہوں تو طلاق کے لیے ضروری چھ ماہ کی انتظار کی مدت کو ختم کیا جا سکتا ہے۔اس معاملے میں جوڑا گزشتہ 18 ماہ سے الگ رہ رہا تھا، اسی لیے اس مدت کو معاف کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے طلاق منظور کر لی۔ اس کیس میں جوڑے نے ایڈووکیٹ رانی کامبلے سوناونے کے ذریعے فیملی کورٹ میں باہمی رضامندی سے طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔
واضح رہے کہ تقریباً 18 ماہ قبل اس جوڑے نے محبت کی شادی کی تھی، لیکن شادی کے اگلے ہی دن شوہر کے شپ پر کام کے لیے جانے کے معاملے پر دونوں کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ اس کے بعد دونوں الگ الگ رہنے لگے۔ خاندان والوں نے تنازع حل کرنے کی کوشش کی، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ شادی کے بعد شروع ہونے والا تناؤ مسلسل برقرار رہا، جس کے باعث دوبارہ ساتھ رہنا ممکن نہیں تھا۔ آخرکار دونوں نے باہمی رضامندی سے طلاق لینے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ شوہر کو شپ پر کام کے لیے فوری طور پر جانا تھا، اس لیے عدالت نے طلاق کی درخواست جلد منظور کر لی۔ باہمی رضامندی سے دائر کی گئی طلاق کی درخواست کو فیملی کورٹ نے منظور کر لیا ہے۔
مزیدپڑھیں:پی ٹی آئی کی کاغذات نامزدگی کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کو درخواست

یہ بھی پڑھیں