Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بچے کی پیدائش پر والد کو چھٹی دینے کے حوالے سے عدالت کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے بینک افسر کو بچے کی پیدائش پر چھٹی نہ دینے پر اسٹیٹ بینک پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے بچے کی پیدائش پر والد کو چھٹی (Paternity Leave) نہ دینا صنفی امتیاز اور ہراسمنٹ قرار دے دیا ہے۔

وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے بینک افسر سید باسط علی کی درخواست پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے خلاف بڑا فیصلہ سنایا۔

اسٹیٹ بینک نے پالیسی موجود نہ ہونے کا عذر پیش کر کے افسر کی پیٹرنٹی رخصت مسترد کی تھی، جس پر عدالت نے بینک پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا

عدالت نے ہدایت کی شکایت گزار افسر سید باسط علی کو 4 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کیے جائیں گے اور 1 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جائیں گے۔

وفاقی محتسب نے اپنے فیصلے میں کہا میٹرنٹی (ماں کی) رخصت دینا اور پیٹرنٹی (باپ کی) رخصت سے انکار کرنا صنفی امتیاز ہے، جو ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال صرف ماں کی نہیں بلکہ والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس سے انکار بچے کے مفاد کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ “میٹرنٹی اور پیٹرنٹی رخصت ایکٹ 2023” کے تحت فوری طور پر اپنی پالیسی مرتب کرے۔

عدالت نے متاثرہ افسر کو تنخواہ کے ساتھ 30 دن کی پیٹرنٹی رخصت دینے کا بھی حکم دیا ہے۔

یاد رہے اسٹیٹ بینک کے افسر سید باسط علی نے بچے کی پیدائش پر 30 دن کی رخصت مانگی تھی، جسے بینک نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ ان کے ہاں ایسی کوئی پالیسی موجود نہیں، جس کے بعد افسر نے وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا۔
مزیدپڑھیں:پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد مہنگائی کی ستائے عوام کے لیے ایک اور جھٹکا

یہ بھی پڑھیں